وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے لون اسکیم چل رہی ہے ، جس میں تقریباً 60 لاکھ سے 3 کروڑ روپے تک کا قرضہ بغیر سود (زیرو مارک اپ) دیا جا رہا ہے، لون اپروول کے بعد صرف بینک کی تقریباً 10 ہزار روپے ریجسٹریشن فیس ہوتی ہے، قرضہ جتنا لیا جائے، اتنا ہی واپس دینا ہوتا ہے، کوئی اضافی سود شامل نہیں، آپ کی رائے چاہیئے کہ کیا یہ اسکیم سے قرضہ لینا مناسب ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے مذکور لون اسکیم کے تحت قرض کی فراہمی پر سود یا کوئی اضافی رقم " چارج "نہ کی جاتی ہواور مقررہ وقت سے تاخیر کرنے پر کوئی جرمانہ عائد نہ کیا جاتا ہو، تو ایسی صورت میں مذکور اسکیم میں زیرو مارک اپ (یعنی بغیر سود کے) پر قرضہ لینے کی گنجائش ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ، تاہم سروس چارجز کے نام سے لی جانے والی رقم اس رجسٹریشن پر آنے والے حقیقی اخراجات کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
کمافی ردالمحتار: تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، الخ (5/166)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0