السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب ! ہماری Oil and Gasکمپنی بلا سود کے قرضے دیتی ہے گھر بنانے کے لیے، گاڑی خریدنے کے لیے، وغیرہ۔ جو لوگ یہ قرضے لیتے ہیں ان سے قرضے کی اصل رقم کے علاوہ ایک اور اضافی رقم کاٹی جاتی ہے جو کہ اگر کوئی قرض لینے والا کمپنی کا ملازم فوت ہو جائے تو اس کے قرضے کی رقم ان تمام قرضے والوں سے وصول کی جاتی ہے۔ اس رقم کو کمپنی کسی اکاؤنٹ میں محفوظ نہیں کرتی ، بلکہ جب کوئی بندہ فوت ہو جاتا ہے تو کمپنی اس بندے کے قرضے کی رقم اپنی یعنی کمپنی کی طرف سے ادا کر دیتی ہے اور آئندہ عرصے میں باقی جتنے لوگوں نے قرضہ لیا ہے، ان پر وہ رقم تقسیم کر کے ان سے وصول کر لیتی ہے۔ چنانچہ جو اضافی رقم قرض لینے والے ملازمین سے لی جاتی ہے، وہ مخصوص نہیں ہے، بلکہ وہ ہر سال جتنے لوگ فوت ہو گئے ہوں تو ان کی قرضے کی رقم کے موافق باقی ملازمین سے اضافی رقم لی جاتی ہے۔ جو کم و بیش ہوتی رہتی ہے عام طور سے یہ اوسطا ً %0.4 ہوتی ہے۔ براہِ مہربانی اس مندرجہ بالا صورت میں واضح فرمائیں کہ ایسا قرضہ لینے کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ جزاک اللہ خیرا
صورتِ مسئولہ میں کمپنی بظاہر بلا سود قرض دیتی ہے، لیکن قرض لینے والوں سے اصل رقم کے ساتھ جو اضافی رقم وصول کی جاتی ہے، تاکہ فوت شدہ ملازمین کے بقیہ قرض کی رقم پوری کی جاسکے، چونکہ یہ اضافہ قرض لینے کی شرط کے طور پرلیا جاتا ہے، اس لیے شرعاً یہ سود کے حکم میں داخل ہے۔ کیونکہ شریعت کا اصول ہے:"کل قرض جرنفعافھوربا"یعنی ہر وہ قرض جس سے نفع لیا جائے وہ سود ہے"، لہٰذا قرض کے ساتھ مشروط ہر اضافہ ناجائز ہے۔ جس سے احتراز لازم ہے۔البتہ قرض دار بذاتِ خود بغیر کسی معاہدہ اور مطالبہ کے کچھ اضافی رقم کمپنی کوفوت شدہ کے قرض کی ادائیگی میں دیدے تو شرعاً یہ جائز ہے اوریہ اس شخص کی طرف سے تبرع و احسان ہوگا۔
کما فی القرآن المجید: (أحل اللہ البیع و حرم الربا) (إلی قولہ) (یأیھا الذین آمنوا اتقوااللہ و ذروا ما بقی من الربا إن کنتم مؤمنین)۔ الآیۃ۔ (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر: 275۔278)۔
و فی تفسیر ابن کثیر: (الذین یأکلون الربا لا یقومون إلا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطان من المس)، أی لا یقومون من قبورھم یوم القیامۃ إلا کما یقوم المصروع حال صرعہ، و تخبط الشیطان لہ، و ذالک أنہ یقوم قیاما منکرا (إلی قولہ) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم (أتیت لیلۃ أسری بی علی قوم بطونھم کالبیوت فیھا الحیات تجری من خارج بطونھم فقلت من ھؤلاء یا جبریل؟ قال ھؤلاء أکلۃ الربا) (إلی قولہ) و قولہ تعالی: (و أحل اللہ البیع و حرم الربا) (إلی قولہ) قولہ علیہ الصلاۃ و السلام (لعن اللہ آکل الربا و موکلہ و شاھدیہ و کاتبہ) (إلی قولہ) یقول تعالی آمرا عبادہ المؤمنین بتقواہ، ناھیا لھم عما یقر بھم إلی سخطہ و یبعدھم عن رضاہ، فقال (یأیھا الذین آمنوا اتقوا اللہ) أی خافوہ و راقبوہ فیما تفعلون (و ذروا مابقی من الربا) أی اترکوا مالکم علی الناس من الزیادۃ علی رؤس الأموال، بعد ھذا الإنذار (إن کنتم مؤمنین) أی بما شرع اللہ لکم من تحلیل البیع و تحریم الربا و غیر ذالک إلخ۔ (ج 1، ص 426۔431، ط: قدیمی)۔
وفی السنن الکبری للبیھقی: عن فضالۃ بن عبید صاحب النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أنہ قال: (کل قرض جر منفعۃ فھو وجہ من وجوہ الربا) الحدیث۔(باب کل قرض جر منفعۃ فھو ربا، رقم الحدیث: 11092)
وفی مشکاۃ المصابیح: عن أنس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال(إذا أقرض الرجل الرجل فلا تأخذ ھدیۃ)۔الحدیث۔ (باب الربا، ج 2، ص 246، ط:قدیمی)۔
وفی إعلاء السنن: عن علی أمیر المؤمنین رضی اللہ عنہ مرفوعا: کل قرض جر منفعۃ فھو ربا (إلی قولہ) وقال الموفق: وکل قرض شرط فیہ الزیادۃ فھو حرام بلا خلاف إلخ۔ (کتاب الحوالۃ، ج 14، ص 512۔513، ط: ادارۃ القرآن)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0