میری پھوپھی کا انتقال ہوگیا ہے، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی، البتہ ان کے شوہر زندہ ہیں۔ پھوپھی کے دو بھائی اور ایک بہن بھی حیات ہیں۔ دادا اور دادی کے انتقال کے بعد وراثت کے کچھ پیسے اور کچھ زیور تھے، جو پھوپھی نے اپنی جیب خرچ (pocket money) سے بنوائے تھے، جو انہیں اپنے بھائیوں سے ملا کرتا تھا۔
جب تک وہ زندہ تھیں، ہمیشہ کہتی تھیں کہ میری وراثت کے پیسے اور زیورات میں سے کوئی چیز میرے شوہر کو نہ دی جائے۔ انہوں نے یہ پیسے اور زیور میرے پاس بطورِ امانت رکھوائے تھے، اور جب بھی انہیں ضرورت ہوتی تو مجھ سے لے لیا کرتی تھیں۔اب آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ ان پیسوں اور زیور کا شرعی حکم کیا ہے؟
واضح ہو کہ کسی وارث کواس کے حصۂ شرعی سے محروم کرنے کی وصیت کرنا شرعاًجائز نہیں اور ایسی وصیت کالعدم ہوتی ہے،لہٰذا صورت مسئولہ میں مرحومہ کا یہ کہنا کہ میری وراثت کے پیسے اور زیورات میں سے کوئی چیز میرے شوہر کو نہ دی جائے ،شرعاً معتبر نہیں ہے، اس لیے جو رقم اور زیورات سائل کی مرحومہ پھوپھی کی ملکیت تھے (خواہ وہ دادا دادی کے ترکہ سے ان کے حصے میں آئے ہوں یا انہوں نے اپنی جیب خرچ سے بنوائے ہوں)اورمرحومہ نے سائل کے پاس بطورامانت رکھوائے ہوئے تھے ،وہ اوراس کے علاوہ مرحومہ کی دیگر تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد اس کے شوہر سمیت دیگر موجودسب ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا لازم و ضروری ہے۔
اس کے بعدواضح ہوکہ سائل کی مرحومہ پھوپھی کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ،وہ سب مرحومہ کاترکہ ہے، مرحومہ کے کفن دفن کے مصارف شوہر کے ذمہ لازم ہیں، چنانچہ یہ مصارف شوہر نے نے بطور تبرع اد ا کردیے تو اب یہ ترکہ سے منہا نہ ہوں گے،اس کےبعددیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تووہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل دس(10) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحومہ کے شوہر کو پانچ(5) حصے، دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کودو(2) حصے، جبکہ بہن کو ایک حصہ دیاجائےگا۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة“ الخ ( باب الوصایا، الفصل الثالث،ج:1، ص: 266، ط: قدیمی كتب خانه)۔
وفی تكملة ردالمحتار علی الدرالمختار: والارث جبري لا يسقط بالاسقاط الخ( 11/678)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2