السلام علیکم! میرے والد صاحب کی وفات 2020میں ہوئی۔ اپنی وفات سے15سال پہلے وہ کچھ عرصہ بہت بیمار ہوگئے۔ ہمارے ۲ قریبی جاننے والوں نے میری والدہ کے نام gift deed بنوا کر زبردستی میرے والد سے sign اور انگوٹھا لگوا دیا۔ اس حادثے کے بعد وہ تندرست ہو گئے لیکن ان کو اس کا ملال تھا۔ انہوں نے کاغذات میری والدہ کے نام ہی رہنے دیئے۔ کیا ان لوگوں کا میرے والد کا بیماری میں sign کروانا جائز تھا؟کیا گفٹ deed کی شریعت میں اجازت ہے ؟کیا میرے والد کا ترکہ اس gift deed کے باوجود شریعت کے مطابق ہونا چاہیے تھا؟جزاک اللہ خیرا
واضح ہو کہ پراپرٹی اور جائیداد وغیرہ محض کسی کے نام کرنے سے شرعاً اس کی ملکیت نہیں بنتی، جب تک اسے اس چیز پر باضابطہ مالکانہ قبضہ نہ دے دیا جائے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃًسائل کے والد کی رضامندی کے بغیرکسی رشتہ دار نے سائل کےوالد کی پراپرٹی سائل کی والدہ کے نام کی ہو، اورسائل کےوالدنےتنددرستی کے بعد اس پراپرٹی پر سائل کی والدہ کوباقاعدہ مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو توایسی صورت میں سائل کی والدہ اس پراپرٹی اور جائیداد کی شرعاً مالک شمار نہ ہوگی، بلکہ یہ جائیداد بدستورسائل کے والدِ مرحوم کی ملکیت میں رہ کراب ان کے انتقال کی صورت میں دیگر ترکہ کی طرح یہ بھی مرحوم کے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
کما فی الدر المختار: (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل ان الموهوب ان مشغولا بملك الواهب منع تمامها، و ان شاغلا لا الخ (کتاب الھبۃ ، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: ایچ-ایم-سعید)ـ۔
وفی رد المحتار: تحت: (قوله بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت و لو كانت فی مرض الموت للاجنبی کما سبق فى كتاب الوقف کذا فی الهامش (قوله بالقبض الکامل) و كل الموهوب له رجلين بقبض الدار فقبضاها جاز خانية الخ (كتاب الهبة، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: ایچ-ایم-سعید)۔
وفی الھندیۃ: لا يثبت الملك للموهوب له الا بالقبض هو المختار، هكذا فی الفصول العمادية الخ (کتاب الھبۃ ، ج: 4 ، ص: 378 ، ط: ماجدیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2