میں نے سوٹا ڈائر یکٹ شوہر کے حوالے کیا تھا، شوہر نے اور شوہر کے والدین نے کہا تھا کہ سونابیچ کے پلاٹ کی ڈاؤن پینٹ کریں گے اور پلاٹ میرے نام کریں گے، اس لیے میں سونا بیچنے پر راضی ہوئی ،ورنہ میں سونا نہیں بیچنا چاہتی تھی،میں نے سونے کی زکوٰۃ دی، اس وقت میرے پاس کل ساڑھے سات تولہ سونا تھا، زکوٰۃ گیارہ ہزار بنی، میری ساس کو ز کوٰۃ دینے کا بہت غم تھا، وہ بولی کہ اس طرح تو میں سارے پیسے غریبوں میں بانٹ دوں گی، ساس نے سسر سے مشورہ کر کے پلاٹ لینے کا پروگرام بنایا، میرے شوہر کو کہا کہ مجھے راضی کرے، میں اس شرط پر مانی کہ پلاٹ میرے نام ہو گا، میرے شوہر اور اس کے والدین نے یقین دلایا کہ پلاٹ میرے نام کریں گے، پلاٹ کی ڈاؤن پینٹ کے اگلے مہینے ہی میرا شوہر فوت ہو گیا، سسر نے میرے سے پلاٹ کی فایل یہ کہہ کے لے لی کہ وہ قسطیں بھریں گے، اور پلاٹ میرے نام کریں گے،تقریباً دو سال بعد میں نے ان سے کہا کہ آپ پلاٹ رکھ لیں لیکن میرے پیسے واپس کر دیں ،انہوں نے کہا کہ اللہ رسول کے سامنے یہ یتیم بچیوں کا حصہ ہے، میں دے دوں گا، بچیوں کو پالنے کے لیے مجھے نوکری کرنا پڑی، جب بھی میں نے پیسوں کا تقاضہ کیا، مجھے کہا گیا کہ دے دیں گے، لیکن نہ تو پلاٹ دیا ،نہ رقم دی، نہ بچیوں کا خر چ دیا، جب میری دوسری شادی کو بھی آٹھ سال گزر گئے ، بچیاں جوان ہو گئیں ، تب مجھے وہی 2.5 لاکھ دے دیے، تب 2.5 لاکھ کا میں نے 6 تولہ زیور بیچا تھا، اب 6 تولہ کم از کم 18 لاکھ کا ہے، 2.5 لاکھ میں 1 تولہ بھی نہیں آتا، پلاٹ بھی سسر نے اپنے نام کروالیا،جو جو چیز میرے شوہر نے اپنے بچوں کے لیے لی تھی، اے۔ سی و غیر ہ وہ بھی یہ کہ کے رکھ لیا کہ ماں باپ کا بھی حصہ ہوتا ہے ، جو شادی پر مجھے دیا وہ بھی رکھ لیا، جو کچھ وہ لے سکتے تھے وہ قبضہ کر لیا، میں نے بیوگی کے 6 سال بعد شادی کی، اس سارے عرصے میں اپنے بچوں کی واحد کفیل رہی، سونا بیچنے کی واحد وجہ یہ تھی کہ آئندہ مجھے زکوٰۃ دینے سے باز رکھا جائے اور میں اس لیے مانی کہ مجھے پلاٹ مل جائے گا، اور ساس سسر بھی خوش ہو جائیں گے کہ میں نے ان کی بات مان لی، شوہر نے سونا لے جا کے بیچا اور پلاٹ کی ڈاؤن پیمنٹ کی،(1:شرعی لحاظ سے مجھے آج کے 6 تولہ کے حساب سے پیسے ملنے چاہئیں یا وہی 2.5 لاکھ جن کی اہمیت 2012 میں بہت زیادہ تھی ،اور اب کچھ نہ ہونے کے برابر ہے ؟( 2: میرا اور بچوں کا خرچہ کس کے ذمہ تھا؟(3: فوت ہوئے بیٹے نے اپنی زندگی میں اپنے بچوں اور بیوی کے لیے جو سامان لیا، اس میں اس کے ماں باپ کا کتنا حصہ ہے ؟۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو،اور اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو ،اس طور پر کہ سائلہ نے ساس سسر اور شوہر کے کہنے پر زکوٰۃ سے بچنے کیلئے مذکور سونا بیچ کر پلاٹ خریدا،تو اس طرح معاملہ کرنا شرعاً مکروہ اور ناپسندیدہ تھا ،جس پر سائلہ اور ان تمام افراد کو توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے اس طرح کے کاموں سے اجتناب لازم ہے، تاہم اگر سائلہ نے اپنا سونا اس شرط پر بیچا ہو کہ حاصل شدہ رقم سے پلاٹ خرید کر اس کے نام کیا جائے،تو ایسی صورت میں مذکور پلاٹ سائلہ کی ملکیت ہے،البتہ بقیہ اقساط کی ادائیگی اگر سسرنے اپنی رضامندی سے قرض کی صراحت کے بغیر کی ہو، تو اب ایسی صورت میں سسر کا مذکور پلاٹ پر قبضہ کرلینا اور سائلہ کو فقط ڈھائی لاکھ (ڈوان پیمنٹ)دینا شرعاً ناجائز اور غصب کے زمرے میں آئیگا،جس سے اس کو احتراز لازم ہے،بصورتِ دیگر سائلہ اپنے حق کی وصولیابی کی خاطر قانونی چارہ جوئی بھی کرسکتی ہے،جبکہ سائلہ کی بچیوں کے پاس اگر پہلے سے مال موجود ہو،خواہ وہ باپ کے ترکہ سے ملا ہو یا کسی اور ذریعہ سے، تو ایسی صورت میں ان کی ضروریات کا خرچہ انہی پیسوں سے وصول ہوگا،ورنہ بچیوں کے نفقہ کی ذمے داری "ماں" اور "دادا"اثلاثاً اٹھائیں گے،یعنی دوتہائی "دادا" پر اور ایک تہائی"ماں" پر ہوگا،بشرطیکہ ماں(سائلہ) اس خرچ کو برداشت کرنے کی متحمل ہو،ورنہ اس کے کل اخراجات کا ذمہ ان کے "دادا"پر ہوگا، اس کی عدم ادائیگی پر قانونی کاروائی کا حق حاصل ہوگا، نیز مرحوم ترکہ سے اسکے تجہیز و تکفین ،ادائیگی قرض ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل کے بعد (اگر کی ہو) جو کچھ بھی بچے گا،اس میں مرحوم کے ماں ،باپ،دونوں بیٹیاں،اور بیوہ شرعاً وارث بنیں گے،مرحوم کی بیوہ عقدِ ثانی کی وجہ سے اپنے مرحوم شوہر کی میراث سے محروم نہ ہوگی ،جبکہ مرحوم کے ترکہ میں سے اس کے والدین نے تقسیمِ میراث سے قبل جس قدر مال دیگر ورثاء کی اجازت و مرضی کے بغیر لیا ہو،اسے تقسیم ِ میراث کے وقت ان کے حصہ میراث سے منہا کیا جاسکتا ہے۔
کمافی الدرالمختار: (وحكمه الإثم لمن علم أنه مال الغير ورد العين قائمة والغرم هالكة ولغير من علم الأخيران) فلا إثم؛ لأنه خطأ وهو مرفوع بالحديث۔ (کتاب الغصب، ج:6،ص:179،ط:سعید)
وفی الشامیۃ: (قوله ويجب رد عين المغصوب) لقوله عليه الصلاة والسلام على اليد ما أخذت حتى ترد ولقوله عليه الصلاة والسلام لا يحل لأحدكم أن يأخذ مال أخيه لاعبا ولا جادا، وإن أخذه فليرده عليه زيلعي۔(مطلب فیمالو ھدم حائط، ج:6،ص:182، ط:سعید)
وفی بدائع الصنائع: ولو كان له أم وجد كانت النفقة عليهما أثلاثا: الثلث على الأم والثلثان على الجد على قدر ميراثهما۔(فصل فی سبب وجوب ھذہ النفقۃ، ج:4،ص: 33،م:سعید)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0