کیا چمڑے کے وہ بوٹس جو ٹخنے سے بھی اوپر تک ہوتے ہیں، ہم فوجی وہ پہنتے ہیں، کیا ان پر مسح ہو سکتا ہے؟
واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ میں ایسے موزوں یا جوتوں پر مسح کی اجازت دی گئی ہے، جن میں درج ذیل تین شرطیں پائی جائیں:(1)وہ پانی کو نہ گزاریں، یعنی اگر ان پر پانی ڈالا جائے تو پاؤں تک نہ پہنچے،(2)وہ اپنی مضبوطی کی وجہ سے بغیر باندھے خود پنڈلی پر قائم رہ سکیں، (3)انہیں پہن کر کم از کم تین میل تک چلنا ممکن ہو ،جبکہ فوجی جوتوں میں عموماً یہ تمام شرطیں پائی جاتی ہیں،لہذا اگر کوئی شخص اسے طہارتِ کاملہ کی حالت میں پہن لے، تو ایسی صورت میں وضو ٹوٹنے پر ان پر مسح کرنا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنا شرعا جائز اور درست ہے ، بشرطیکہ نماز پڑھتے وقت جوتوں پر کوئی گندگی وغیرہ لگی ہوئی نہ ہو۔
کما فی الدر المختار:(شرط مسحه) ثلاثة أمور: الأول (كونه ساتر) محل فرض الغسل (القدم مع الكعب) أو يكون نقصانه أقل من الخرق المانع، فيجوز على الزربول لو مشدودا إلا أن يظهر قدر ثلاثة أصابع، وجوز مشايخ سمرقند ستر الكعبين باللفافة.(و) الثاني (كونه مشغولا بالرجل) ليمنع سراية الحدث، فلو واسعا فمسح على الزائد ولم يقدم قدمه إليه لم يجز ولا يضر رؤية رجله من أعلاه. و) الثالث (كونه مما يمكن متابعة المشي) المعتاد (فيه) فرسخا فأكثر(کتاب الطہارۃ،ج:1،ص:261،ط:سعید)
وفی رد المختار :(قوله: شرط مسحه) أي مسح الخف المفهوم من الخفین، وأل فیه للجنس الصادق بالواحد والإثنین، ولم یقل مسحهما لأنه قدیکون واحدا لذي رجل واحدة (قوله: ثلاثة أمور الخ) زاد الشر نبلالي: لبسهما علی طهارة، وخلو کل منهما عن الخرق المانع، واستمساکهما علی الرجلین من غیرشد، ومنعهما وصول الماء إلی الرجل،وأن یبقی من القدم قدر ثلا ثة أصابع(کتاب الطہارۃ،ج:1،ص:261،ط:سعید)
و فیہ ایضا:(قولہ لو مشدودًا) لأن شدہ بمنزلة الخیاطة و هو مستمسك بنفسه بعد الشد کالخف المخیط بعضه ببعض (الي قوله) قلت : و الظاهر أنه الخف الذي یلبسه الأتراك في زماننا(کتاب الطہارۃ، ج:1،ص:262،ط:سعید)
وفی المحیط البرهاني:وأما المسح علی الجوارب فلایخلو: إما ان کان الجوارب رقیقاً
غیر منعل، وفي هذا الوجه لایجوز المسح بلا خلاف، وأما ان کان ثخیناً منعلاً ففي هذا الوجه یجوز المسح بلا خلاف، لأنه یمکن قطع السفر، وتتابع المشي علیه، فکان بمعنی الخف. والمراد من الثخین: أن یستمسك علی الساق من غیر أن یشد بشيءٍ، ولایسقط، فأما اذا کان لایستمسك ویسترخي، فهذا لیس بثخین، ولایجوز المسح علیه".(کتاب الطھارۃ، ج:1،ص:170،دار الكتب العلمية)