کیا فرماتے ہیں علماۓ دین، ایک شحص نے کسی رشتہ دار کو قرض دیا اور ساتھ تلقين کی کہ میری اولاد اور بیوی میں سے کسی کو نہیں بتانا، اگر مجھے ضرورت پڑی تو میں آپ سے مانگ لوں گا، اگر میں وفات پا جاؤں، تو جب آپ کے پاس قرض کی رقم آسانی سے ہو جاۓ، تو کسی بھی زیر تعمیر مسجد میں دے دینا، جلد ہی اس شحص کا انتقال ہو گیا، اب مقروض شحص کیلیے کیا حکم ہو گا؟ اس رقم کا اگرحقیقی وارثوں کو بتا تا ہے تو یہ وعدہ خلافی تو نہ ہو گی؟ اور اگر بغير وارثوں کو بتائے کسی مسجد میں دیدے تو کیا یہ شرعی طور پر ٹھیک ہے؟ اگر وارث کو بتانے پر وارث لینے کا مطالبہ کرے تو یہ مرحوم صدقہ جاریہ سے محروم ہو جائیگا؟ اس میں رہنمائی فرمإدیں، شکریہ
سائل پر لازم ہے کہ وہ اولاً ورثاء کے علم میں یہ قرض کی رقم لے آئے، اور پھر انہیں اس وصیت کی بھی اطلاع ديدے، جس کے بعد اگر یہ قرض کی رقم مکمل ترکہ کا ایک تہائی یا اس سے کم ہو تو اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے ورثاء کو چاہیے کہ یہ رقم مسجد کی تعمیر میں لگا دے، اور ایسا کرنے سے سائل پر وعدہ خلافی کا گناہ لازم نہ ہوگا۔
كما في الدر المختار: (هي تمليك مضاف إلى ما بعد الموت) عينا كان أو دينا. (إلى قوله) (وهي) على ما في المجتبى أربعة أقسام (واجبة بالزكاة) والكفارة (و) فدية (الصيام والصلاة التي فرط فيها) ومباحة لغني ومكروهة لأهل فسوق (وإلا فمستحبة) اهـ (كتاب الوصايا، ج: 6، ص: 648، ط: ايج ايم سعيد)
وفيه أيضا: (وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته).اهـ (كتاب الوصية، ج: 6، ص: 650، ط: ايج ايم سعيد)
وفي رد المحتار: وينبغي الإفتاء بأن الوصية للمسجد وصية لفقرائه في مثل الأزهر كذا حرر هذا المحل السائحاني - رحمه الله تعالى - وانظر ما في شرح الوهبانية.اهـ (كتاب الوصايا، ج: 6، ص: 665، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر الختار: (أوصى بشيء للمسجد لم تجز الوصية) لأنه لا يملك، وجوزها محمد. قال المصنف: وبقول محمد أفتى مولانا صاحب البحر (إلا أن يقول) الموصي (ينفق عليه) فيجوز اتفاقا.اهـ (كتاب الوصايا، ج: 6، ص: 696، ط: ايج ايم سعيد)
وفي التاتارخانية: رجل قال في مرضه أو في صحته إن حدث لي حدث فلفلان كذا، فهذا وصية، والحدث عندنا الموت.اهـ (كتاب الوصايا، ج: 19، ص: 370، ط: مكتبة زكيا ديوبند الهند)
وفي بدائع الصنائع: وكذا كونه من أهل الملك ليس بشرط حتى لو أوصى مسلم بثلث ماله للمسجد أن ينفق عليه في إصلاحه وعمارته وتجصيصه يجوز؛ لأن قصد المسلم من هذه الوصية التقرب إلى الله سبحانه وتعالى بإخراج ماله إلى الله سبحانه وتعالى لا التمليك إلى أحد.اهـ (كتاب الوصايا، ج: 7، ص: 341، ط: ايج ايم سعيد)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0