ایک صاحب نے گاڑی خریدنی تھی تو ان کے ایک دوست نے مدد کی رقم دے کر گاڑی خریدنے میں اور اس رقم کی واپسی کا معاہدہ یہ طے ہوا کہ ہر ماہ ایک مخصوص رقم واپس کی جائے گی ۔
اس رقم کی ادائیگی میں جو طے شدہ رقم تھی وہ تو نہیں بلکہ اس کی آدھی رقم ہر ماہ واپس کی جانے لگی تھی اور دوست کی طرف سے کوئی اعتراض یا نکیر بھی نہیں کی گئی اس بات پر، مگر اب اچانک اس دوست کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ تم اپنی گاڑی بیچو اور مجھے میری پوری رقم ادا کرو۔
*سوال* :کیا گاڑی کے لیے رقم دینے والے کا تصرف اس گاڑی میں ہوگا یا محض معاہدے کے مطابق وہ رقم کے مطالبہ کا مجاز ہے؟
*سوال* :کیا اس رقم دینے والے کا اس طرح گاڑی بیچنے پر اصرار کرنا ٹھیک ہے؟
*سوال* :معاہدہ سے ہٹ کر اپنی پوری رقم کی واپسی کا فوری مطالبہ کس حد تک درست ہوگا؟
واضح ہو کہ قرض کی واپسی میں کوئی مخصوص مدت متعین کرنے سے متعین نہیں ہوتی ،بلکہ قرض دینے والا اس مدت سے پہلے بھی اپنے قرض کا مطالبہ کرسکتا ہے ،لہذا صورت مسؤلہ میں اگرچہ مخصوص مدت میں رقم کی واپسی کا معاہدہ طے ہوا تھا ،لیکن اس کے باوجود قرض خواہ کو رقم کی واپسی کے لیے فوری مطالبہ کا مکمل حق حاصل ہے ،تاہم سائل کے پاس اگر ادائیگی کی کوئی اور ترتیب ممکن ہو تو قرض خواہ کا گاڑی بیچنے پر اصرار کرنا شرعاً درست نہیں ،ورنہ اپنی رقم کی وصولیابی کے لیے وہ گاڑی بیچنے پر اصرار کرنے کا بھی حق رکھتا ہے ۔
کما فی صحیح البخاری : عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن رجلا تقاضى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأغلظ له،فهم أصحابه، فقال: (دعوه، فإن لصاحب الحق مقالا، واشتروا له بعيرا فأعطوه إياه). وقالوا: لا نجد إلا أفضل من سنه، قال: (اشتروه، فأعطوه إياه، فإن خيركم أحسنكم قضاء)،( باب: استقراض الإبل، ج:2، ص: 842،رقم الحدیث: 2260، مط: دار ابن کثیر۔)
و فی الھدایہ : قال: "وكل دين حال إذا أجله صاحبه صار مؤجلا"؛ لما ذكرنا "إلا القرض" فإن تأجيله لا يصح؛ لأنه إعارة اھ،(فصل: "ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه" ج: 3،ص : 60،مط: بیروت۔ )
و فی مختصر القدوری : وكل دين حال إذا أجله صاحبه صار مؤجلا إلا القرض فإن تأجيله لا يصح اھ،(باب المرابحة والتولية،ج : 2 ،ص: 76،مط: دارالکتب العلمیہ۔ )
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0