السلام علیکم ورحمۃاللہ وربرکاتہ :علمائے کرام اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ اگر ہم اس پلاٹ پر گھر بنانے کا ارادہ کریں جو والد صاحب کے نام پر ہے۔ ہمارے پاس پوری رقم موجود نہیں ہے۔ اگر والد صاحب 50٪ رقم کسی اسلامی بینک سے قرض (فنانسنگ) کی صورت میں لیں، لیکن اس قرض کو میں اور میرا بھائی مل کر ادا کریں، اگرچہ عملی طور پر اکاؤنٹ والد صاحب یا کسی ایک بھائی کے نام پر ہو، مگر ہم دونوں اس میں رقم جمع کرواتے رہیں تاکہ بینک کا قرض ادا ہو جائے، تو کیا اس طریقے سے ہم گھر میں 50٪ کی سرمایہ کاری کی وجہ سے شریک شمار ہو سکتے ہیں؟ یعنی باہمی رضامندی کے ساتھ بعد میں گھر کا 50٪ حصہ ہم دونوں کا قرار دیا جا سکے؟
صورت مسئولہ میں سائل اور اس کے بھائی کی طرف سے ان کے والد یا کوئی بھائی اس پلاٹ پر مکان تعمیر کے لئے ٪50 رقم بینک سے بطور قرض لے کر اس تعمیر پر خرچ کرے، اور قرض واپس کرنے والوں کی نیت بھی اس مکان کی تعمیر ٪50 شیئرز کا مالک بننا ہو جس کی صراحت وہ رقم خرچ کرتے وقت کر لیں، تو یہ دونوں بھائی اس مکان کی تعمیر میں ٪50 حصہ کے مالک شمار ہوں گے اور بینک سے وصول کردہ رقم کی ادائیگی بھی ان دونوں بھائیوں کے ذمہ لازم ہوگی، جبکہ تعمیر کابقیہ ٪50 حصہ اور پلاٹ والد ہی کی ملکیت میں رہے گا ۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ یہ تمام تر معاملات تحریری صورت میں محفوظ کر لیےجائیں ، تاکہ بعد میں اختلاف اور پریشانی سے بچا جاسکے۔
کما فی تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ:وفي الفتاوى الخيرية سئل في ابن كبير ذي زوجة وعيال له كسب مستقل حصل بسببه أموالا ومات هل هي لوالده خاصة أم تقسم بين ورثته أجاب هي للابن تقسم بين ورثته على فرائض الله تعالى حيث كان له كسب مستقل بنفسه.
وأما قول علمائنا أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب الخ (ج:2،ص:17،ناشر دارالمعرفۃ
وفی دررالاحکام فی شرح المجلۃ الاحکام:وقول المجلة (مع ابنه) إشارة لهذا الشرط. مثلا إن زيدا يسكن مع أبيه عمرو في بيت واحد ويعيش من طعام أبيه وقد كسب مالا آخر فليس لإخوانه بعد وفاة أبيه إدخال ما كسبه زيد في الشركة. كذلك لو كان اثنان يسكنان في دار وكل منهما يكسب على حدة وجمعا كسبهما في محل واحد ولم يعلم مجموعه لمن كما أنه لم يعلم التساوي أو التفاوت فيه فيقسم سوية بينهما ولو كانا مختلفين في العمل والرأي اھ(ج:3،ص:461،ناشر:دارالجیل)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0