بعد ازسلام عرض یہ ہے کہ میں آپ حضرات سے دین کی روشنی میں ایک تحریری فتوی چاہتا ہوں، فتوی مجھے اس چیز کا چاہئیے کہ میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے، والد صاحب ہمارے لئے نقدی کی شکل میں (4100000) اکتالیس لاکھ روپے چھوڑ کر گئے ہیں، اب ہم اس رقم کا شرعی حصہ کرنا چاہتے ہیں ،حصے میں میری دو والدہ ہیں اور ہم چھ بہن بھائی ہیں ،بڑی والدہ جو کہ ہماری سوتیلی ماں ہے ،ہمارے ساتھ رہتی ہے ،ان سے کوئی اولاد نہیں ہے ،چھوٹی والدہ جو کہ ہماری سگی ماں ہے ،وہ بھی ہمارے ساتھ رہتی ہے اور ان سے ہم چھ بہن اور بھائی ہیں جس میں تین بہنیں اور تین بھائی ہیں، اب ہم سب یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں اس رقم کا شرعی بٹوارہ یا حصہ تحریری طور پر کر کے دے دیں، حصے دار جو ہیں اس میں ہم آٹھا فراد ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہر فرد کا شرعی حصہ اس کے نام کے ساتھ تحریری طور پر واضح لکھ دیں ،امید ہے کہ آپ ہمیں جلد اس بات کا تحریری جواب دیں گے، آپ سب مفتیانِ کرام اور علماء کرام حضرات کی دعاؤں کا طلب گزار۔
مرحوم کے ترکہ میں سے حقوقِ متقدمہ علی المیراث ( کفن، دفن کے متوسط مصارف، واجب الادا قرض اور بیواؤں کے مہر کی ادائیگی اور ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد ) اگر اس کے ترکہ میں یہی رقم مبلغ 41 لاکھ روپے بچتے ہوں اور مرحوم کے موجود ہ ورثاء بھی یہی ہوں، ان کے علاوہ کوئی وارث موجود نہ ہو ، تو مذکور رقم میں سے ہر بیوہ کو دو لاکھ چھپن ہزار دوسو پچاس(256250) روپے، ہر ایک بیٹےکو سات لاکھ ستانوے ہزار دو سو بائیس(797222) روپے، جبکہ بیٹیوں میں سے ہر ایک کو تین لاکھ اٹھانوے ہزار چھ سو گیارہ ( 398611 ) روپے دیے جائیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2