السلام علیکم ۔ میرا یک سوال ہے کے حکومت کی ایک سکیم متعارف کروائی گئی ہے جس میں 60 لاکھ سے 3 کروڑ تک بغیر سود کے قرضہ دیا جارہا ہے قرض دار نے 5 سال میں وہ رقم واپس کرنی ہے اور اتنی ہی رقم واپس کرنی ہے جتنا قرض لیا گیا ہے، سود کی مد میں جو اضافی رقم ہے وہ حکومت ڈائریکٹ بینک کو ادا کریگی ۔ اگر ایسی سکیم سے قرض لیا جائے تو کیا یہ اسلامی طریقے کے لحاظ سے جائز تصور ہوگا یا سود کی وجہ سے حرام ۔ رہنمائی فرمادیں جزاک اللہ
واضح ہو کہ حکومت کی اس اسکیم میں اگر قرض لینے والے شخص سے اس قرض رقم پر کسی بھی طرح مشروط اضافہ یا منفعت نہ لی جاتی ہو ،تو اس اسکیم سے مستفید ہونا جائز ہوگا، البتہ حکومت اور بینک کے درمیان اگر اس ضمن میں کوئی سودی معاہدہ ہو تو اس کی وجہ سے عام آدمی گناہ گار نہ ہوگا ۔
کما فی صحیح المسلم : عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله ، وكاتبه وشاهديه ، وقال : هم سواء ( باب الربا ، ج : 2 ، ص : 860 ، ط : بشری )
و فی اعلاء السنن : وقال الموافق فی " المغنی " و کل قرض شرط فیہ الزیادۃ فھو حرام بلا خلاف ، قال ابن المنذر : اجمعوا علی ان المسلف اذا شرط علی المستسلف زیادۃ او ھدیۃ فاسلف علی ذلک ان اخذ الزیادۃ علی ذلک ربا ( باب کل قرض جر منفعۃ فھو ربا ، ج : 14 ، ص : 499 ، ط : ادارۃ القرآن )
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0