السلام علیکم ، میرا سوال میراث اور ترکے کے حوالے سے ہے۔ ہم چار بہن بھائی ہیں، 3 بہنیں ، 1 بھائی. والدہ کی وفات 2021 میں ہوئی، جبکہ والد کا انتقال 2025 میں۔ والد نے دوسری شادی کی تھی تو اب ان کی بیوہ بھی وارثین میں شامل ہیں، ہم چاروں بہن بھائی کے ساتھ۔ بات یہ ہے کہ والد صاحب 2017 تک سعودی عرب میں ملازمت پیشہ تھے۔ پھر وہ 2017 میں ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آگئے، آنے سے قبل انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کی نوکری بھی سعودی عرب میں لگوا دی تھی ۔ پاکستان آنے کے بعد اسی بیٹے نے انہیں گھر خرچ کی مد میں اپنی سہولت سے پیسے بھیجنا شروع کئے۔ اسی دوران اپنی گریجوئٹی کی رقم سے والد صاحب نے ایک پلاٹ خریدا ،لیکن اس پر کوئی کام نہ کروایا۔ 2018 میں والدہ شدید علیل ہو گئیں اور ستمبر 2021 میں ان کی وفات ہوئی۔ اس کے بعد والد صاحب نے اس پلاٹ پر مکان بنانے کا کام شروع کیا ، اس مکان پر والد صاحب نے اپنی جیب سے کافی پیسہ بھی لگایا جو انہیں ملازمت سے ریٹائرمنٹ پر ملا تھا۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے اپنا 1 مکان اور 1 دکان کرائے پر دیا ہوا تھا اور باقی کچھ اور منافع بھی آتا تھا ان کی انویسٹمنٹ سے، نیز یہ کہ وہ معاشی معاملات میں الحمدللہ کافی خود کفیل تھے، اس کے علاوہ جو بیٹا گھر خرچ بھیجتا تھا وہ بھی تھوڑا بہت بچا کر ادھر لگایا ۔ والد صاحب کی وفات تک گھر مکمل نہ ہو سکا، اب مسئلہ یہ ہے کہ والد صاحب کی وفات کے بعد بیٹے کا یہ دعویٰ ہے اس گھر کو بنانے میں میرا بھی پیسہ لگا ہے تو مجھے یہ سب پیسے وراثت کے پیسوں میں سے منہا کر کہ چاہئے، بیٹا پیسوں کا حساب 2017 سے لگا رہا ہے جبکہ مکان بننا ہی 2021 کے آ خر میں ہوا، مزید یہ کہ جو رقم وہ بھیجتا تھا وہ گھر خرچ کے لئے ہوتی تھی، لیکن والد صاحب کچھ نہ کچھ بچا کر اس زیر تعمیر مکان میں بھی لگاتے تھے، مزید یہ کہ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ مکان کی تعمیر میں بیٹے کے کل کتنے پیسے لگے ہیں، کیونکہ والد صاحب اپنی آمدنی بھی اس پر لگا رہے تھے اور جلد از جلد کام کروا کر اس مکان میں رہنے کے لئے شفٹ ہونا چاہتے تھے، اسی گھر خرچ کی رقم کو ملا کر والد صاحب نے والدہ کا بیماری میں علاج کروایا اور بعد ازیں اپنے اسی بیٹے اور ایک بیٹی کی شادی کی، اس کے علاوہ بیٹے کے کچھ ذاتی خرچے اور ذاتی پراپرٹیز کی پیمنٹ بھی اسی رقم سے کی جاتی تھی، اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے میں بیٹے کا مرحوم والد کی بیوہ اور بیٹیوں سے اس رقم کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کا اطلاق کب سے ہونا چاہیے ؟ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے ؟
صورت مسئولہ میں اگر بیٹے کی طرف سے والد کو بھیجی جانے والی رقوم گھرکے خرچ اور اعانت کے طور پر دی جاتی تھیں اور اس وقت انہیں قرض یا باقاعدہ سرمایہ کاری قرار نہیں دیا گیا تھا، اورکسی قسم کی واپسی کی کوئی صراحت بھی نہیں کی گئی تھی، تو شرعاً وہ رقوم اس بیٹےکی طرف سے والدمرحوم کے ساتھ تبرع شمار ہونگی؛خصوصاً جبکہ وہ رقوم گھریلو اخراجات، علاج، شادیوں اور دیگر مصارف میں صرف ہوتی رہی ہوں اور والد مرحوم خود بھی اپنی ذاتی آمدن اس مکان کی تعمیر میں لگاتے رہے ہوں ۔
لہٰذاصورت مسئولہ میں سائلہ کے والدمرحوم کا ترکہ بشمول مذکورمکان ان کےموجودتمام ورثاء میں شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔چنانچہ مرحوم کےبیٹے کا مذکور رقم منہا کرنے کا مطالبہ درست نہیں، جس سے احترازلازم ہے۔
کما فی ردالمحتار :مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية ( الی قولہ ) ثم هذا في غير الابن مع أبيه؛ لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له (الي قوله) وفي الخانية: زوج بنيه الخمسة في داره وكلهم في عياله واختلفوا في المتاع فهو للأب وللبنين الثياب التي عليهم لا غير، فإن قالوا هم أو امرأته بعد موته: إن هذا استفدناه بعد موته فالقول لهم، وإن أقروا أنه كان يوم موته فهو ميراث من الأب ( ج٤:ص: ٣٢٥،ط: سعید )
وفی العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره.اه.(کتاب المداینات، ج:٢ ، ص:٢٢٦،ط: دارالمعرفۃ)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2