ایک عزیز(۔۔۔) کے تایا(زید) نے ایک لڑکی کو لے کر پالا تھا اور اب ان تایا کا انتقال ہو گیا اور ان کی کوئی اور اولاد نہیں ہے تو ان کی میراث میں سے حصہ کس کو ملے گا ، اس لڑکی کا دعوی ہے کہ ساری جائیداد اس کے نام زندگی ہی میں کر دی گئی تھی، اور جائیداد ساری واقعی میں اسی کے نام پر ہے ، تو اب دیگر عزیز و اقارب کو حصہ ملے گا یا نہیں؟
اور دوسری بات یہ ہے کہ جن عزیز(۔۔۔) کے تایا کا انتقال ہوا ہے اور ان(۔۔۔) کے اپنے والد (۔۔۔۔) کا انتقال تایا سے بھی پہلے ہو چکا تھا یعنی تایا کا ابھی انتقال ہوا ہے اور ان عزیز(۔۔۔) کے والد کا انتقال کئی سال پہلے ہو چکا تھا تو اب تایا کی میراث میں سے ان (۔۔۔۔) کو حصہ ملے گا یا نہیں ان کو حصہ ملے گا یا نہیں (۔۔۔ اور ۔۔۔ حقیقی بھائی ہیں، اور۔۔۔، ۔۔۔ کا بیٹا ہے۔
صورت مسئولہ میں مذکور شخص کے تایا نے اگر واقعۃً اپنی زندگی میں لے پالک بیٹی کو کل جائیداد کا مالک بنادیا ہو اور اسے مالکانہ تصرف کے ساتھ قبضہ بھی دے دیا ہو، تو ایسی صورت میں تو یہ تمام جائیداد اسی کی شمار ہوگی ،اور اس میں کسی اور شخص کو مطالبہ کا شرعاًحق حاصل نہیں، لیکن اگر مذکور شخص کے تایا نے لے پالک بیٹی کے نام جائیداد کرکے اس پر مالکانہ تصرف کے ساتھ قبضہ نہ دیا ہو، تو ایسی صورت میں یہ جائیداد لے پالک بیٹی کی نہ ہوگی، بلکہ اسے تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم کرنا شرعاً ضروری ہوگا،جس کی تفصیل ورثاء کی وضاحت کے بعد ہی بیان کی جاسکتی ہے ۔
کما فی البحر: (قَوْلُهُ وَجَعَلْته لَك) لِأَنَّ اللَّامَ لِلتَّمْلِيكِ وَلِهَذَا لَوْ قَالَ هَذِهِ الْأَمَةُ لَك كَانَ هِبَةً وَلَوْ قَالَ هِيَ لَك حَلَالٌ لَا تَكُونُ هِبَةً إلَّا أَنْ يَكُونَ قَبْلَهُ كَلَامٌ يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ بِهِ الْهِبَةَ كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ قَيَّدَ بِقَوْلِهِ لَك لِأَنَّهُ لَوْ قَالَ جَعَلْته بِاسْمِك لَا يَكُونُ هِبَةً وَلِهَذَا قَالَ فِي الْخُلَاصَةِ لَوْ غَرَسَ لِابْنِهِ كَرْمًا إنْ قَالَ جَعَلْته لِابْنِي تَكُونُ هِبَةً وَإِنْ قَالَ بِاسْمِ ابْنِي لَا تَكُونُ هِبَةً(کتاب الہبۃ،ج:5،ص:285،ط:دار الکتاب الاسلامی)
وفی الھدایۃ: الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع "وتصح بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك.(کتاب الھبۃ، ج:3،ص:222،ط:دار احیاء التراث)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2