السلام علیکم !میرا سوال یہ ہے کہ کوئی بندہ مجھے بولتا ہے، مجھےایک لاکھ پاکستانی بھیج دو،میں آپکو ایک مہینے بعد پیسے دونگا ،مگر میں 1500ریال لونگا ،جبکہ اس دن کے ایکسچینج ریٹ کے حساب سے 1350 ریال کا ایک لاکھ بنتا ہے،تو کیا وہ اوپر والے 150 ریال سود میں شامل ہوگئے؟کیا یہ میرےلئے حلال ہونگے یا حرام ؟ برائے مہربانی جواب دیں!
واضح ہو کہ مذکور معاملہ فقہی اعتبار سے قرض کا ہے، اور قرض میں جو چیز دی جائے، تو مقروض کے ذمہ اس کا مثل دینا لازم ہوتاہے،چنانچہ صورت مسئولہ میں مذکور شخص پر ایک لاکھ روپے پاکستانی ہی کی آدائیگی لازم ہوگی،سائل کسی اور کرنسی کا مطالبہ نہیں کرسکتا، البتہ اگر مقروض واپسی کی صورت میں کسی اور کرنسی پر آمادہ ہو جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
کما فی الہدایۃ: لأن القرض يوجب رد مثل المقبوض، وقد يكون زيفا كما في الغصب.اھ(کتاب الاقرار، باب الاستثناء ومافی معناہ،ج:3،ص:183،ط:دار احیاء التراث العربی)
و فی تبیین الحقائق: (قوله يصدق في الزيوف إن وصل) يعني إذا قال لفلان علي ألف درهم قرض هي زيوف يصدق إذا وصل قوله هي زيوف بقوله ألف درهم قرض أما إذا قطع كلامه ثم قال بعد زمان هي زيوف لا يصدق باتفاق الروايات، وذلك؛ لأن القرض يقضى بالمثل فربما يكون المقبوض زيفا فيصدق فيما إذا وصل كما في الغصب الخ(کتاب لاقرار، ج: 5، ص: 20، ط: دارالکتاب الاسلامی)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0