احکام حج

دوران عدت حج پر جانا

فتوی نمبر :
91432
| تاریخ :
2026-01-28
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

دوران عدت حج پر جانا

میرا نام زبیرالدین صدیقی ہے۔ میرے والد کا انتقال 24 جنوری 2026 کو رات 11 بجے ہوا، جو قمری تاریخ کے مطابق 5 شعبان تھی۔ اب میں اپنے سوال کی طرف آتا ہوں،والد کے انتقال سے پہلے میں نے اپنی والدہ اور اپنے حج کا انتظام کر لیا تھا، ہم حج اسکیم میں کامیاب ہو چکے ہیں اور ہماری تمام ادائیگیاں اور دستاویزات مکمل ہو چکی ہیں،اب میں آپ سے شرعی رہنمائی (فتویٰ) چاہتا ہوں کہ کیا میری والدہ حج پر جا سکتی ہیں؟ میری والدہ کی عمر 65 سال سے زیادہ ہے اور وہ ایک معمر خاتون ہیں۔ انہیں لے جانے والا واحد کفیل میں خود ہوں،میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی والدہ کو بعد میں حج پر لے جا سکتا ہوں یا نہیں؟کیا بعد میں لے جانا ممکن ہو پائے گا یا نہیں؟مجھے اس بارے میں یقینی علم نہیں، اس لیے براہِ کرم شرعی رہنمائی فرما دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شوہر کے انتقال کے بعد عورت پر عدت وفات گزارنا شرعاً واجب ہوتا ہے، جس کی مدت چار ماہ دس دن ہے، اس مدت میں شریعت نے عورت کو بلا ضرورت شدیدہ گھر سے نکلنے اور سفر کرنے سے منع فرمایا ہے، حتی کہ حج جیسا عظیم فریضہ بھی اگر عدت کے ایام میں آ جائے تو عدت کو مقدم رکھا جائے گا، کیونکہ عدت فوری (فوری الاداء) واجب ہے، جبکہ حج اس وقت فرض ہوتا ہے جب اس کی ادائیگی میں کوئی شرعی مانع نہ ہو۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ اگر حج کے سفر کے ایام میں عدت وفات میں ہو تو ان کے لیے عدت مکمل ہونے سے پہلے حج کے سفر پر جانا جائز نہیں، اگر وہ اس سال حج پر نہ جا سکیں تو شرعاً معذور شمار ہوں گی، اور عدت کے بعد جب بھی استطاعت اور مواقع میسر ہوں حج ادا کر سکتی ہیں، البتہ اگر بڑھا پے یا دائمی عذر کی وجہ سے آئندہ خود حج پر جانا ممکن نہ رہے، تو ایسی صورت میں حج بدل کی وصیت کا اہتمام کیا جا ئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الشامیۃ: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (‌في ‌بيت ‌وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه، (کتاب الطلاق،فصل فی الحداد،ج:3،ص:536،سعید)۔
و فی البدائع : والثاني: أن لا تكون معتدة عن طلاق أو وفاة؛ لأن الله تعالى نهى المعتدات بقوله عز وجل: {لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن} الخ(کتاب الحج، فصل شرائط فرضية الحج، ج 2، ص 124، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
و فی البحر الرائق : خمسۃ علی الاصح صحۃ البدن و زوال الموانع الحسیۃ عن الذہاب الی الحج و امن الطریق و عدم قیام العدۃ حق المرأۃ و خروج الزوج او المحرم معھا اھ (کتاب الحج، ج 2، ص 331، ط: دار الکتاب الاسلامی)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91432کی تصدیق کریں
0     172
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات