السلام علیکم،
میری والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان کے ورثاء درج ذیل ہیں:
میں (بیٹا)،میری بہن (بیٹی)،نانا (والدہ کے والد) اور نانی (والدہ کی والدہ) ۔وراثت میں سونا، جائیداد اور دیگر چیزیں موجود ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ نانا اور نانی اپنا شرعی حصہ لینے سے انکار کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں چاہئیے، سب تمہارا حق ہے۔میں نے سنا ہے کہ اگر کوئی وارث اپنا حصہ معاف کرے تو شرعی طور پر اس کے بدلے وراثت میں سے کوئی معمولی چیز دینا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن نانا اور نانی کسی بھی چیز کو لینے کے لیے تیار نہیں ہیں، حتیٰ کہ معمولی چیز بھی قبول نہیں کرتے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب نانا اور نانی کسی بھی چیز کو لینے کے لیے تیار نہ ہوں تو ان کا حصہ شرعی طور پر کیسے معاف ہو سکتا ہے؟ کیا اس صورت میں صرف زبانی طور پر حصہ معاف کرنا شرعاً کافی ہوگا، یا کوئی اور شرعی طریقہ ضروری ہے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
جزاک اللہ خیراً۔
یہ بات درست ہے کہ کسی وارث کااپناحصہ چھوڑنے اور معاف کرنے سے ترکہ میں اس کا حق ختم نہیں ہوتا ،اس لئے سائل اپنے نانا ،نانی کو شرعی مسئلہ سامنے رکھتے ہوئے سمجھائے کہ اگر واقعۃ ً وہ اپنے نواسے نواسیوں کے ساتھ مخلص ہیں،تو کچھ نہ کچھ عوض(چاہے معمولی سی چیز کیوں نہ ہو) لے کر اپنے حصوں سے دستبردار ہوجائیں تاکہ ان کا مقصد شرعی طور پر بھی درست طریقے سے حاصل ہو ۔ اسی طرح اگر نانا، نانی مشترکہ ترکے میں سے اپنے حصص کی قیمت لگا کر اپنے حصص ،نواسے نواسی کو فروخت کردے(پھر خواہ وہ طے شدہ قیمت سے سائل اور اس کی بہن کو بری کرکے وہ قیمت معاف کردے)تو اس طرح کرنے سے بھی سائل اور اس کی بہن ترکے میں موجود نانا، نانی کے حصص کے مالک بن جائیں گے۔بصورت دیگر حصصِ شرعیہ کے تناسب سے ان کا حصہ نکال کر ان کے حوالے کردیا جائے،اس کے بعد اپنی مرضی سے وہ جسے دینا چاہیں دیدیں۔
کما فی الاشباہ والنظائر: لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك،(فصل: ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله، وبيان أن الساقط لا يعود،ص:272)
وفی غمز عیون البصائر:تحت قوله: لو قال الوارث: تركت حقي إلخ. اعلم أن الإعراض عن الملك أو حق الملك ضابطه أنه إن كان ملكا لازما لم يبطل بذلك كما لو مات عن ابنين فقال أحدهما: تركت نصيبي من الميراث لم يبطل لأنه لازم لا يترک بالترك بل إن كان عينا فلا بد من التمليك وإن كان دينا فلا بد من الإبراء، وإن لم يكن كذلك بل ثبت له حق التملك صح كإعراض الغانم عن الغنيمة قبل القسمة كذا في قواعد الزركشي من الشافعية ولا يخالفنا إلا في الدين، فإنه يجوز تمليكه ممن هو عليه اھ(ج:3،ص:354).
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2