محترم و مکرم مفتی صاحب! السلام علیکم و رحمت اللہ۔بعد سلامِ مسنون گزارش ہے کہ ہم تبلیغی جماعت کے ساتھ جب (سفر پر) جاتے ہیں تو اکثر تشکیل بیس (20) دن سے اوپر کی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار پوری تشکیل ایک ہی شہر میں ہوتی ہے اور کبھی دیہات میں، جہاں ایک بستی سے دوسری بستی کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے۔ ہم تمام نمازیں قصر (سفرانہ) پڑھتے ہیں۔ اس دفعہ باجوڑ گئے تو ساتھیوں میں اختلاف ہو گیا۔ بعض کا کہنا ہے کہ اگر علاقہ دیہات کا ہو لیکن تمام بستی والے سودا سلف ایک ہی شہر یا بازار سے لاتے ہوں، تو نماز پوری پڑھنی چاہیے۔ اس وجہ سے کچھ ساتھی پوری نماز پڑھتے ہیں اور کچھ قصر (سفرانہ) پڑھتے ہیں۔ مرد تو اکثر مسجد میں امام کے ساتھ (پوری) نماز پڑھ لیتے ہیں، لیکن جب مستورات کی جماعت چلہ یا تین ماہ کے لیے ہوتی ہے تو وہ تمام نمازیں اکیلی پڑھتی ہیں۔ اب فرمائیے کہ ہم کیا کریں؟ یہ ایک اہم مسئلہ ہے، اگر وضاحت کے ساتھ فتویٰ دے دیں تو تمام لوگوں کا فائدہ ہو جائے گا اور (نمازوں کے) نقصان سے بچ جائیں گے۔
واضح ہو کہ کسی جماعت کی تشکیل اگر ایسے مختلف مضافات اور دیہات کی طرف ہو کہ ان میں سے ایک مقام اور دیہات کی حد بندی دوسرے سے جدا اور علیحدہ ہو، و ایک دوسرے سے فاصلہ پر آباد ہوں اور مختلف ناموں سے موسوم ہوں اور ایک دوسرے سے علیحدہ شمار ہوتے ہوں، جبکہ ہر ایک بستی میں مدتِ اقامت سے کم ٹھہرنے کی ہی نیت ہو، جیسا کہ عموماً ہوتا ہے، تو ایسے دو یا اس سے زائد مختلف مقامات یا دیہاتوں میں (خواہ ایک مقام شہر ہو اور دوسرا مقام اس شہر کا دیہات ہو) پندرہ یا اس سے زائد ایام کے لیے جانا پڑ جائے، تو اس صورت میں یہ شخص یا جماعت شرعاً مقیم شمار نہیں ہوگی، بلکہ مسافر کے حکم میں ہونے کی بنا پر اس دوران نماز میں قصر کرے گی؛ اور اگر ایک ہی شہر کی مختلف مسجدوں اور محلوں میں تشکیل ہوئی ہو، تو وہاں پندرہ یوم کی نیت سے ٹھہرنا اقامت کہلائے گا اور نماز پوری پڑھنی ہوگی۔
کما فی بدائع الصنائع: (وأما) اتحاد المكان: فالشرط نية مدة الإقامة في مكان واحد؛ لأن الإقامة قرار والانتقال يضاده ولا بد من الانتقال في مكانين وإذا عرف هذا فنقول: إذا نوى المسافر الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان مصرا واحدا أو قرية واحدة صار مقيما؛ لأنهما متحدان حكما، ألا يرى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر فقد وجد الشرط وهو نية كمال مدة الإقامة في مكان واحد فصار مقيما وإن كانا مصرين نحو مكة ومنى أو الكوفة والحيرة أو قريتين، أو أحدهما مصر والآخر قرية لا يصير مقيما؛ لأنهما مكانان متباينان حقيقة وحكما، (إلی قوله) فعلى هذا إذا نوى المسافر الإقامة فيه خمسة عشر يوما يصير مقيما اھ (باب صلاة المسافر،ج:۱،ص:۹۸،ط: سعید)
و في الهندية: ولا يزال على حكم السفر حتى ينوى الاقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر یو ما أو أكثر كذا في الهداية اھ .(باب صلاة المسافر،ج:۱،ص: ۱۳۹،ط:ماجدیہ)۔
و فی مجمع الانہر:(من جاوز بيوت مصره) ولم يذكر القرية لأنها تابعة في الحكم وليس بتغليب كما ظن وهي جمع بيت مأوى الإنسان من نحو حجر أو خشب أو صوف ويدخل ما كان من محله منفصلة وفي القديم كانت متصلة وتدخل في بيوت المصر رابضة لقول علي - رضي الله تعالى عنه - لو جاوزنا هذا الخوص لقصرنا كما في الفتح وأما فناء المصر فظاهر كلام المصنف كالهداية أنه لا يشترط مجاوزته وقد فصل قاضي خان فقال: إن كان بين المصر وفنائه أقل من قدر غلوة ولم تكن بينهما مزرعة تعتبر مجاوزة الفناء أيضا وإن كانت بينهما مزرعة أو كانت المسافة بين المصر وفنائه قدر غلوة تعتبر مجاوزة عمران المصر وكذا إذا كان الانفصال بين القريتين أو بين قرية.اھ(باب صلاة المسافر،ج:۱،ص:۱۶۰،ط: دار الطباعة العامرة)
وفى حاشية ابن عابدين: تحت (قوله من خرج من عمارة موضع إقامته) أراد بالعمارة ما يشمل بيوت الأخبية لأن بها عمارة موضعها. (إلی قوله) وأشار إلى أنه يشترط مفارقة ما كان من توابع موضع الإقامة كربض المصر وهو ما حول المدينة من بيوت ومساكن فإنه في حكم المصر اھ (2باب صلاة المسافر:ج:۲،ص: 121،ط : سعید)۔
و فی احسن الفتاوی:اگر اس بستی سے شہر تک مسلسل عمارات نہیں بلکہ بقدر غلوہ (۱۶/ ۱۳۷ میٹر) یا اس سے زائد خلا ہے یا درمیان میں زرعی اراضی ہیں تو یہ مستقل آبادی شمار ہوگی اس کے مکانات سے نکلنے پر قصر کا حکم شروع ہو جائے گا ، اور اگر شہر سے متصل ہے خواہ شہر کی نواحی کچی آبادی یا جھونپڑیوں وغیرہ ہی سے متصل ہو تو یہ شہر میں داخل ہے اس لئے حدود شہر سے باہر نکلنے پر مسافر ہوگا۔ اسٹیشن اگر شہر سے متصل ہو مینی درمیان میں زرعی زمین یا۔ ۱۶. ۱۳۷میٹر خلا نہو تو اس پر حکم قصر نہیں.اھ(باب صلاة المسافر،ج:۴،ص:۷۳،ط:سعید)
و فیہ ایضا: دو بستیوں کے درمیان وجود مزارع یا قدر غلوه (۱۶. ۱۳۷ میٹر) علامت انقطاع ہے ،اگر دو مواضع عرفِ عام میں ایک ہی شہر کے دو محلے سمجھے جاتے ہوں تو فصل مذکور کے باوجود دونوں کو ایک موضع قرار دیا جائے گا۔اھ(باب صلاة المسافر،ج:۴،ص:۷۴،ط:سعید)
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4