محترم مفتیان ِکرام ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو ،اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو،اس طور پر کہ دو بھائیوں نے مذکور مکان تیسرے بھائی کواکیس لاکھ میں فروخت کیا ہو،اور تیسرے بھائی نے اب وہ مکان انہتر لاکھ میں فروخت کردیا ہو،اور دونوں معاملوں میں بہنوں سے اجازت نہیں لی گئی ہو،اور نہ ہی وہ اس فروختگی پر رضامندہوں،تو ایسی صورت میں بہنوں کے شرعی حصے کی حد تک بیع کالعدم شمار ہوگی،لہذا اب اگر وہ دوسرے عقد پر رضامند نہ ہوں،تو وہ اپنے شرعی حصہ کے بقدر زمین یا اس کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق رقم کا مطالبہ کرسکتی ہیں ۔
کما فی مشکوۃ المصابیح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألالاتظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه».(باب الغصب والعاریۃ، رقم الحدیث: 2946، ط: البشری)۔
وفي الهداية شرح بداية المبتدي: "قال الشركة ضربان شركة أملاك وشركة عقود فشركة الأملاك العين يرثها رجلان أو يشتريانها فلا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه وكل واحد منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي وهذه الشركة تتحقق في غير المذكور في الكتاب اھ(ج:3/ص:3 الناشر المكتبة الإسلامية)۔
وفی الفتاوی الھندیہ:"ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره۔(کتاب الشرکہ ،ج:2،ص:301،ط:رشیدیہ)۔
وفی درر الحكام شرح مجلة الأحكام:لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه الخ،لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي اھ (ج:1/ص:27الناشر دار الكتب العلمية)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2