کیا فرماتے ہیں علماء اکرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ انجکشن لگوانے سے روزہ دار کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے کہ نہیں ؟ قرآن و سنت معتبر فقہی کتابوں کے حوالے کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں ، اگر فقہی عبارتوں کا ترجمہ بھی نقل فرما دیں تو بہت احسان ہوگا ۔ کتاب کا نام صفحہ نمبر چھا پہ ضرور تحریر فرمائیے گا کیونکہ ہمارے علاقے میں اس مسئلے پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ سبز مسجد کے امام صاحب فرماتے ہیں ٹوٹ جاتا ہے جبکہ دیوبندی مسلک والے فرماتے ہیں نہیں ٹوٹتا۔ جلد از جلد جواب چاہیے۔
اطباء کی تحقیق نیز تجربہ سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ انجکشن کے ذریعہ دوا جوف عروق (رگوں) میں پہنچائی جاتی ہے اور پھر وہ خون کے ساتھ جسم میں سرایت کرتی ہے ، کسی منفذ معتاد کے ذریعہ جوف دماغ یا جوف بطن میں دوا نہیں پہنچتی ، اور فساد صوم کے لئے مفطر کا جوف دماغ یا جوف بطن میں پہنچنا ضروری ہے، مطلقاً کسی عضو کے جوف میں یا عروق کے جوف میں پہنچنا مفسد صوم نہیں ، لهذا انجکشن کے ذریعہ سے جو دوا بدن میں پہنچائی جاتی ہے مفسد صوم نہیں، فقھاء کی عبارتیں دو طرح پر تقریباً بلکہ حقیقتاً اس اس دعوے کی تصریح کرتی ہیں اول تو یہ کہ فقہاء نے زخم پر دوا ڈالنے کو مطلقاً مفسد نہیں فرمایا بلکہ جائفہ یا آمہ کی قید لگائی ہے، کیونکہ انہیں دو قسم کے زخموں سے دوا جوفِ بطن کے اندر پہنچتی ہے، ورنہ جوف عروق کے اندر تو دوسری قسم کے زخموں سے بھی دوا پہنچ جاتی ہے ، دوسرے بہت سی جزئیات فقہیہ مسلمات فقھاء میں سے ایسی ہیں جن میں دوا وغیرہ مطلقاً جوف بدن میں تو پہنچ گئی ، لیکن چونکہ جوف دماغ یا جوفِ بطن میں نہیں پہنچی ، اس لیے اس کو مفطر و مفسد صوم نہیں قرار دیا ، جیسے مرد کی پیشاب گاہ کے اندر دوا یا تیل وغیرہ چڑھانے سے باتفاق ائمہ ثلاثہ روزہ فاسد نہیں ہوتا ، تفصیل کے لیے ملاحظہ هو امداد الفتاوی ( ج ۲ / ۱۴۵) امداد الاحکام (۲/ ۱۳۰)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وما وصل إلى الجوف أو إلى الدماغ عن المخارق الأصلية كالأنف والأذن والدبر بأن استعط أو احتقن أو أقطر في أذنه فوصل إلى الجوف أو إلى الدماغ فسد صومه اھ (2/ 93)
و في الدر المختار: (أو أدهن أو اكتحل أو احتجم) وإن وجد طعمه في حلقه اھ (2/ 395)
وقال وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: وإن وجد طعمه في حلقه) أي طعم الكحل أو الدهن كما في السراج وكذا لو بزق فوجد لونه في الأصح بحر قال في النهر؛ لأن الموجود في حلقه أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن والمفطر إنما هو الداخل من المنافذ للاتفاق على أن من اغتسل في ماء فوجد برده في باطنه أنه لا يفطر اھ (2/ 395) واللہ اعلم بالصواب
روزے کی حالت میں استنجاء کے وقت عورت کا گیلی انگلی شرمگاہ میں داخل کرنا- اس کے لۓ استنجاء کا طریقہ
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0روزہ کی حالت میں سورج غروب ہونے سے پہلے اور صبح صادق کے بعد کھانا یا کچھ پی لینا
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0روزے کی حالت میں اجنبیہ عورت کو بوسہ کے بعد نکلنے والے پانی سے روزی فاسد ہوتا ہے یا نہیں ؟
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0کیا روزے کی حالت میں ہم بستری کرتے ہوئے باہر فارغ ہونے سے کفارہ لازم ہوگا؟
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0