شریعت کے مُطابق سفر میں دو رکعات پڑھنے کا حکم ہے تو اس میں نیت کس طرح باندھی جائے گی اور نیز مغرب اور فجر میں بھی نیت کس طرح باندھنا ہوگا؟
واضح ہو کہ نیت دل کے ارادہ کا نام ہے ،اسی بناء پر نماز شروع کرتے وقت اگر دل کا ارادہ پایا گیا تو نماز کی صحت کے لیے کافی ہے، باقاعدہ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں ، جبکہ سفر میں بھی اسی طرح نیت باندھی جائے گی جس طرح حضر میں باندھی جاتی ہے ، ہاں اگر زبان سے نیت کے الفاظ اداکیے جائیں تو فجر اور مغرب کے علاوہ دیگر نمازوں کی تعداد میں چار رکعت کے بجائے دو رکعت نماز قصر کے الفاظ اداکرنے کا اہتمام کرنا ہوگا۔
كما في الهداية: قال: "وينوي الصلاة التي يدخل فيها بنية لا يفصل بينها وبين التحريمة بعمل" والأصل فيه قوله عليه الصلاة والسلام "الأعمال بالنيات"(الى قوله) والنية هي الإرادة والشرط أن يعلم بقلبه أي صلاة يصلي أما الذكر باللسان فلا معتبر به ويحسن ذلك لاجتماع عزيمته.اھ(باب شروط الصلاۃ ، ج: ١، ص: ٤٦، مط: دار أحياء التراث)
وفي الدر المختار: والمعتبر فيها عمل القلب اللازم للإرادة) فلا عبرة للذكر باللسان إن خالف القلب لأنه كلام لا نية، (الى قوله) (والتلفظ) عند الإرادة (بها مستحب) هو المختار،اھ(باب شروط الصلاة، ج:١، ص: ٤١٥، مط: سعيد)
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4