والد کی زندگی میں جو پراپرٹی بیٹو ں کے نام لی گی تھی وہ بیٹوں کے نام ہی ہو گی ؟اور انہوں نے فوت ہونے سے پہلے٪25 اپنے نام رکھنے کی وصیت کی تھی ،اب انتقال کے بعد ان کی بیٹیوں اور بیٹوں کی تقسیم ٪25میں سے کرنی پڑے گی ؟ اور جو کاروبار وہ بیٹوں کے نام کر چکے ہیں لیکن کاغذات میں ابھی وو مشترکہ ہے ۳ بیٹوں کے نام ہے ، اسمیں والد کا حصہ بنتا ہے ؟ وفات سے پہلے پاور آف اٹارنی اپنے اثاثوں کی ایک بیٹے کے نام کی تھی ، اس کی کیا حیثیت ہے ؟
صورت مسؤلہ میں سائل کے والد مرحوم نے اگر مذکور کاروبار اور پراپرٹی بیٹوں کےفقط نام کی تھی ، ان کے درمیان یہ چیزیں تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصے پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ نہیں دیا تھا، تو شرعا فقط نام کرنے سے چونکہ کوئی شخص کسی چیز کا مالک نہیں بنتا، اس لیئے اس صورت میں شرعا بیٹے مذکور کاروبار اور پراپرٹی کے مالک شمار نہ ہونگے،بلکہ یہ تمام اشیاء والد مرحوم کی وفات تک بدستور ان کی ملکیت ہوگی، جو کہ اب تمام ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم ہوگی، جبکہ پاور آف اٹارنی شرعا اسباب ملکیت میں سے نہیں ، اس لیئے اس سے بھی مذکور بیٹا شرعا والد مرحوم کی جائیداد کا مالک شمار نہ ہوگا۔
کما فی الددر المختار: ( و تتم ) الھبۃ بالقبض الکامل ( ولو الموھوب شاغلا للملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: سعید )
وفی الھندیہ: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب اھ( الباب الاول فی تفسیر الھبۃ ، ج: 4 ، ص: 374، ط: ماجدیۃ )
و فی بدائع الصنائع: (ومنها) القبض وهو أن يكون الموهوب مقبوضا وإن شئت رددت هذا الشرط إلى الموهوب له لأن القابض والمقبوض من الأسماء الإضافية اھ( کتاب الھبۃ، ج: 6، ص: 123، ط: سعید )
وفی فقہ البیوع: وعلی ھذا الاساس افتی علماء شبہ القارۃ الھندیۃ: بان مجرد تسجیل الارض باسم احد لا یستلزم ان یکون ھو مالکا لھا، فلو اشتراھا احد باسم رجل آخر لم یدففع الثمن، وانما دفع الثمن من قبل الاول، فمجرد ھذا التسجیل لا یعنی انہ وھب لہ الارض اھ ( العقود الصوریہ، ج: 1، ص: 217، معارف القرآن )
و فی بدائع الصنائع: والوكالة تبطل بموت الموكل والوكيل وسواء علم المضارب بموت رب المال أو لم يعلم لأنه عزل حكمي فلا يقف على العلم كما في الوكالة ( فصل فی بیان ما یبطل بہ عقد المضاربۃ، ج: 6، ص: 112، ط: دارالکتب العلمیہ )
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2