السلام علیکم، عموماً لوگ کاروبار میں اللہ تعالی کو شریک بناتے ہیں کہ کاروبار میں جو منافع ہوگا اس میں سے 10فیصد اللہ تعالی کا حصہ ہوگا، اب سوال یہ ہے کہ اللہ کےلیےمخصوص کیے گۓ حصے کو ہر جگہ خرچ کرسکتے ہیں ؟ جیسے مسجد بنوانا ، مدرسہ تعمیر کروانا یامصارفِ زکاۃ کی طرح اس کے مصرف الگ ہیں؟
سوال میں ذکر کردہ الفاظ ہمارے عرف میں اپنی کمائی سے اللہ تبارک و تعالی کی راہ میں کچھ رقم صدقہ و خیرات کے عزم کے اظہار کے لیئے بولے جاتے ہیں ، جس کی حیثیت نذر کی نہیں ، بلکہ نفلی صدقہ کرنے کے عزم اور ارادے کی ہوتی ہے ، لہذا سائل نے بھی اگر اسی نیت کے ساتھ اپنی کمائی سے اللہ کی راہ میں کچھ صدقہ و خیرات کا عزم کیا ہو، تو یہ رقم چونکہ نفلی صدقہ کے زمرے میں آتی ہے، اس لئے سائل اس رقم کو کسی بھی خیر کے کام میں خرچ کرسکتا ہے، شرعا اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
كما في سنن أبي داؤد: عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب، عن أبيه، عن جده رضي الله عنه في قصته، قال: قلت: يا رسول الله، إن من توبتي إلى الله أن أخرج من مالي كله إلى الله وإلى رسوله صدقةً. قال: "لا". قلت: فنصفه. قال: "لا" قلت: فثلثه. قال: "نعم". قلت: فإني سأمسك سهمي من خيبر اهـ (باب من نذر أن يتصدق بماله، ج:2، ص:1289، ط: مكتبةالبشرى)
وفی البزازیة: ان عوفیت صمت کذا لم یجب ما لم یقل للہ علی وفی الاستحسان یجب وان لم یکن تعلیقا لا یجب قیاسا واستحسانا کما اذا قال انا احج فلا شیء اھ (کتاب الایمان، ج: 4، ص: 272، ط: ماجدیة)
وفی بدائع الصنائع واما صدقۃ التطوع فیجوز صرفھا الی الغنی لانھا تجری مجری الھبۃ اھ( کتاب الزکاۃ ، فصل واما الذی یرجع الی المؤدی، ج: 2 ، ص: 47، ط: سعید)