السلام علیکم!
میں گھر بنانے کی سکت نہیں رکھتا اور اب عمر بھی قریب 45 برس ہو چکی ہے ۔ لہذا چاہتا ہو کہ حکومت کی اسکیم میرا پاکستان میرا گھر کے تحت بینک سے قرض حاصل کر کے گھر بنا لوں اور خوں پی جانے کے مترادف گھر کے کرائے کی ہر ماہ ادائیگی کی بجائے قرض کی اقساط ادا کرتا رہوں۔راہنمائی کی درخواست ہے ۔شکریہ !
''میرا پاکستان میرا گھر'' مستحق عوام الناس کو گھر دینے کا ایک حکومتی پراجیکٹ ہے،جس کے لئے ہمارے علم کے مطابق مختلف بینکس اور مالیاتی ادارے تمویل(fiancing) کے خدمات فراہم کر رہے ہیں، اور مختلف بینکوں اور مالیاتی اداروں کا طریقہ کار بھی مختلف ہے،تاہم اس سلسلہ میں غیر سودی بینک جیسے (میزان وغیرہ بینک) جو تمویل کی صورت اختیار کرتے ہے ہماری معلومات کے مطابق وہ شرکت متناقصہ کی صورت بنتی ہےDiminishing Musharakah(D.M)،لہذا اگر یہ معاملہ باقاعدہ مستند مفتیان کرام کی شریعہ بورڈ کے زیر نگرانی سر انجام دیا جائے جس میں تمام شرعی اصول وضوابط ملحوظ خاطر رکھا جائے تو ان کے ذریعہ مذکور پراجیکٹ سے مستفید ہونے کی اجازت ہوگی۔
كما في المعايير الشرعية: المشاركة المتناقصة عبارة عن شركة يتعهد فيها أحد الشركاء بشراء حصة الآخر تدريجيا إلى أن يتملك المشتري المشروع بكامله. ولا بد أن تكون شركة غير مشترط فيها البيع والشراء، وإنما يتعهد الشريك بذلك بوعد منفصل عن الشركة، وكذلك يقع البيع والشراء بعقد منفصل عن الشركة، ولا يجوز أن يشترط أحد العقدين في الآخر ھ(الرقم: 12، ج: 1، ص: 345، ط: المكتبة الحقانية)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0