جنابِ عالی!
مؤدبانہ گزارش عرض یہ ہے کہ تین سال ہو گئے ہیں کہ میرے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔ یہ گھر میرے شوہر نے میرے پانچ تولہ سونا بیچ کر خریدا تھا اور پھر اسے میرے نام کر دیا تھا۔ میں نے اپنے بیٹوں کو بڑا کیا، ان کی شادیاں وغیرہ کیں تاکہ یہ لوگ میرا خیال رکھیں اور مجھے خرچہ دیں، لیکن یہ لوگ مجھے خرچہ نہیں دیتے، بلکہ الٹا تنگ کرتے ہیں اور بے جا تہمتیں بھی لگاتے ہیں۔ انہوں نے گھر کے اوپر اپنے اپنے کچے کمرے بنا لیے تھے اور اب کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارا گھر ہے۔ ان کے علاوہ میری تین بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا بھی ہے، ان کو خرچہ کون دے گا اور ہمارا خیال کون رکھے گا، کیونکہ وہ پہلے بھی خیال نہیں رکھتے تھے اور اب بالکل بھی خیال نہیں رکھیں گے۔ لہٰذا مہربانی فرما کر حق فیصلہ فرما دیں، بہت بہت مہربانی ہوگی۔
(نوٹ: معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا میری زندگی میں میری اس ذاتی ملکیت جائیداد میں میری اولاد، یعنی بیٹوں اور بیٹیوں کا کوئی حصہ شامل ہے یا نہیں؟ اور کیا وہ میری زندگی میں مجھ سے مطالبہ کرنے کے حق دار ہیں؟ خرید کے کاغذات موجود ہیں۔)
صورتِ مسئولہ میں سائلہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کے شوہر نے اس کا سونا بطور قرض لیا تھا اور بعد میں اس کے بدلے میں انہوں نے یہ مکان سائلہ کے نا م کردیا تھا یا یہ مکان شوہر کا ذاتی ملکیت تھا فقظ کا غذات کی حد تک سائلہ کے نا م کردیا تھا اور فروخت کردہ سو نے کی مستقل ادائیگی کا وعدہ کیا تھا، تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جا تا ،تاہم سائلہ کے شوہر نے سائلہ کے سونے کے بدلے یہ مکان خرید نے کے بعد سائلہ کے حوالہ کردیا ہو اور کاغذات میں بھی اسی کے نا م کر دیا ہو تو یہ گھر سائلہ کی ملکیت ہوگا۔ البتہ جو کمرے سائلہ کے بیٹوں نےاس مکان کی چھت پر بعد میں تعمیر کیے ہیں اگر وہ اپنی رہائش کے لئے تعمیر کیے ہوں تو اس تعمیر کے مالک اگرچہ تعمیر کرنے والے بیٹے ہوں گے، مگر ان تعمیرات کی بنیاد پر ان کا پورے گھر پر اپنی ملکیت کا دعوی کرنا درست نہیں اور نہ ہی والدہ کی زندگی میں وہ اس گھر میں حصہ دار ہیں اور انہیں اس گھر میں حصہ داری یا تقسیم کے مطالبہ کا بھی حق حاصل نہیں ، لہذا انہیں اپنے اس ناجائز مطالبہ پر اصرار کرنے سے احتراز لازم ہے ۔
جبکہ بیٹوں کے ساتھ شریعتِ مطہرہ نے چھوٹےبہن بھائیوں اور والدہ کے بھی بہت سے حقوق متعلق کیے ہیں اس لئےانہیں ان حقوق کی ادائیگی کی فکر اور اپنے بیجا مطالبات کے ذریعہ والدہ کو تکلیف دینے سے احتراز لازم ہے۔
وفی شرح المجلۃ لا یشترط اضافۃ العقد الی الموکل بالبیع والشراء والاجارۃ والصلح عن اقرار فان لم یضف الوکیل الی موکلہ واکتفی باضافتۃ الی نفسہ صح ایضآ وعلی کلتا الصورتین لاتثبت الملکیۃ الا لموکلہ ولکن ان لم یضف العقد الی الموکل تعود حقوق العقد الی العاقد یعنی الوکیل وان اضیف الی الموکل تعود حقوق العقد، الخ(ج:4 ص : 426 باب الثالث فی بیان احکام الوکالۃ ناشر: مکتبہ اسلامیۃ)
وفي تنقیح الحامدیۃ : (سئل) في رجل بنى بماله لنفسه قصرا في دار أبيه بإذنه ثم مات أبوه عنه وعن ورثة غيره فهل يكون القصر لبانيه ويكون كالمستعير؟
(الجواب) : نعم كما صرح بذلك في حاشية الأشباه من الوقف عند قوله كل من بنى في أرض غيره بأمره فهو لمالكها إلخ ومسألة العمارة كثيرة ذكرها في الفصول العمادية والفصولين وغيرها وعبارة المحشي بعد قوله ويكون كالمستعير فيكلف قلعه متى شاء.(ج:2 ص : 81 کتاب العاریۃ ناشر: دار المعرفۃ)۔
وفي تبیین الحقائق : ولقوله صلى الله عليه وسلم «الكبائر الإشراك بالله تعالى وعقوق الوالدين وقتل النفس واليمين الغموس» رواه البخاري وأحمدالخ( ج: 3 کتاب الأیمان ص : 107 ناشر:المطبعۃ الکبری الأمیریہ)
وفي المبسوط للسرخسی : وكذلك يجبر على نفقة كل ذي رحم محرم منه الصغار والنساء وأهل الزمانة من الرجال إذا كانوا ذوي حاجة عندنا(ج:5 باب النفقۃ زوی الارحام ص : 223 ناشر: المطبعۃ السادۃ)
وفي لسان الحكام :وفي فتاوي الفضلى في كتاب الدعوى رجل بني السقف الأعلى في منزل امرأته ثم أراد رفعه إن بناه بأمرها ليس له الرفع والبناء لها وكذا كل من بنى دار غيره بغير أمره يكون له وإن بنى بغير أمرها له أن يرفع إلا أن يضر فحينئذ يمنع وفي الوصايا إن بنى لها يكون لهاالخ(ص: 411 فصل فی مسائل البیع والملک)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0