قرض

موروثہ مکان پر ایک وارث کی خرچ کردہ رقم کا حکم

فتوی نمبر :
92644
| تاریخ :
2026-02-26
معاملات / مالی معاوضات / قرض

موروثہ مکان پر ایک وارث کی خرچ کردہ رقم کا حکم

کیا کہتے ہیں علماء کرام اس بارے میں!
ترکہ میں میں چھوڑے ہوے مکان پر اگر ایک وارث تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے اپنی ضرورت کے تحت جس میں اس کی رہایش ہے ایک منرل اپنی آمدنی سے تعمیر کرتا ہے، بعد اسکے دیگر وارثان اس مکان کو فروخت کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں،سوال: کیا اس وارث کی اس مکان پر لگائی گئی رقم منہا کر کے تقسیم ہو گی یا وارث کی لگائی گئی رقم بھی جائیداد کی تقسیم میں شامل کی جاے گی؟ ترکہ کی تقسیم میں رکاوٹ بننے والے وارث کی وجہ سے اگر کسی وارث کو نقصان پہونچاہو تو اس کا ازالہ کس کی زمہ داری بنتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ قابل تقسىم موروثی جگہ میں اگر کوئی وارث تقسیم کا مطالبہ کرے تو تمام بالغ ورثاء پر اس کی تقسیم لازم ہوجاتی ہے ،تاکہ صاحبِ حق کو اس کا حق دیا جاسكے۔ تقسیم کے مطالبے کے باوجود كسى وارث كا بلا عذر تقسیم نہ کرنا یا تقسیم میں رکاوٹ بننا گناہ ہے۔قرآن و حدیث میں ، صاحبِ حق کو حق نہ دینے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، البتہ اس ركاوٹ بننے كى وجہ سے اس پر كوئى تاوان ىا ضمان لازم نہ ہوگا، جبكہ تقسیمِ تركہ سے قبل جو وارث دیگر ورثاء کی اجازت سے اپنے رہائش كے لیے كوئى تعمیر کرلے، تو شرعاً يہ تعمیر اس کى ملکىت ہوگى، چنانچہ گھر فروخت ہونے كى صورت مىں اس تعمىر كے مقابل رقم كا حقدار یہی وارث ہوگا،اس کو منہا کرنے کے بعد بقىہ رقم اس وارث سمىت تمام ورثاء مىں حسب حصص شرعىۃ تقسىم كرنى لازم ہوگى ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ في التنزیل العزیز: ﴿تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِۚ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدۡخِلۡهُ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ 13 وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٌ مُّهِينٌ 14﴾ [النساء: 13-14]
وفی أحکام القرآن للجصاص: قال أبو بكرؒ قد انتظم هذا العموم النھي عن أكل مال الغير بالباطل وأكل مال نفسه بالباطل وذلك لأن قوله تعالى: {أموالكم} يقع على مال الغير ومال نفسه، (الی قولہ) فكذلك قوله تعالى: {لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل} نھي لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل، وأكل مال نفسه بالباطل إنفاقه في معاصي الله (‌‌مطلب البيان من الله تعالى على وجهين، ج2، ص215-216، ط: دار الکتاب العلمیۃ، بیروت)
وفی سنن ابن ماجۃ: عن أنس بن مالك رضي الله عنه، قال: قال رسول الله ﷺ: "‌من ‌فر ‌من ‌ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة". [(باب الحیف فی الوصیۃ، رقم 2703، ص 549، ط: البشریٰ)]
وفي الدر المختار: (عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء فلا رجوع له ولو اختلفا في الإذن وعدمه، ولا بينة فالقول لمنكره بيمينه، وفي أن العمارة لها أو له فالقول له لأنه هو المتملك كما أفاده شيخنا اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (عمر دار زوجته إلخ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين، وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر اهـ [كتاب الخنثى، مسائل شتى، ج:6 ص:747 ط: سعيد]
شرح المجلۃ لسلیم رستم باز: ومن فروع هذه القاعدة ما لو احتاج الملك المشترك إلى العمارة فطلب أحد الشريكين عمارته وأبي الآخر فإنه لا يجبر عليه بل إذا كان الملك المشترك قابلاً للقسمة يقسم ويفعل كل منهما بنصيبه ما يريد وإن لم يكن قابلاً القسمة بأذن الحاكم لطالب العمارة بالتعمير ويجبس العين إلى أن يستوفي من شريكه قدر ما أصاب حصته من النفقة اهـ (المادۃ: (19) لا ضرر ولا ضرار، ج:1 ص:29 ط: المطبعة الأدبية بيروت سنة 1923)
وفي العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (سئل) فيما إذا بنى زيد قصرا بماله لنفسه في دار مشتركة بينه وبين إخوته بدون إذنهم فهل يكون البناء ملكا له؟
(الجواب) : نعم وإذا بنى في الأرض المشتركة بغير إذن الشريك له أن ينقض بناءه ذكره في التتارخانية من متفرقات القسمة اهـ [كتاب الشركة، شركة العنان، ج:1 ص:98 ط: دار المعرفة)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92644کی تصدیق کریں
1     25
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • حرام آمدنی والے سے قرض لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرض 4
  • حقوق العباد میں کوتاہی کی تلافی کیسے ممکن ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   قرض 0
  • کیاشہادت کی وجہ سے قرض بھی معاف ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال میں دیا ہوا قرض کس کرنسی میں واپس کرنا ہوگا؟

    یونیکوڈ   قرض 0
  • مقروض شخص کا کاروبار میں پیسہ لگانے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • میت پر قرض کا دعوی کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • میزان بینک سے ہوم فائنانس اسکیم کا حصہ بننا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   قرض 1
  • ایزی پیسہ سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 3
  • بچت کمیٹی کی ادائیگی کی تاخیر پر جرمانہ کی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال میں دیا ہوا قرض پاکستانی کرنسی میں واپس کرنے کے مطالبہ کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ایزی پیسہ لون کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 1
  • چائنیز کرنسی میں قرض دیکر پاکستانی کرنسی سے وصول کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض کی ادائیگی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے مشروط کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض کی ادائیگی تک دکان کا کرایہ مانگنا

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • کریڈٹ کارڈ پر واجب الادا قرض نہ لوٹانے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • مروجہ کرنسی کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • When returning Dirhams obtained, on a later date, What is the rate applicable to repay??

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • قرض کی واپسی کو کسی اور چیز کے ساتھ معلق کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • اولاد باپ کو انکی زندگی میں جو کچھ بھی دے اگر قرض کی تصریح نہ ہو تو اس کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • پراویڈنٹ فنڈ کی مد میں قرض لے کراضافہ کے ساتھ لوٹانا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کر کے قرض دینے کے بعد مقروض سے ریال کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض معاف کرنے کے بعد اس کا تقاضہ کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • ساس سسر کا بہو سے حق مہر میں دیا گیا سونا لے کر فروخت کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • عمرہ کمیٹی کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
Related Topics متعلقه موضوعات