احکام حج

عورت تنہا حج پر جائے یا محرم کا انتظار کرے؟

فتوی نمبر :
92923
| تاریخ :
2026-03-05
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

عورت تنہا حج پر جائے یا محرم کا انتظار کرے؟

اگر کوئی عورت( جو یتیم ہے)جس نے بغیر محرم کےاکیلےصرف کام کے لیے سفر کیا ہو اور جس کا کوئی مرد محرم نہ ہو ، جو اس کی مالی مدد کر سکے۔ وہ ایک محرم کے ساتھ حج کرنا چاہتی ہے، اور اپنے بھتیجے کے 12 سال ہونے کا انتظار کرتی ہے ، تاکہ وہ حج کر سکے۔ کیا وہ اپنے بھتیجے کا انتظار کرے یا اکیلی جائے اور حج کرے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عورت اگر اپنے اور اپنے محرم کے سفری اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت رکھتی ہو تو اس پر حج فرض ہو چکا ہے، لیکن اگر محرم دستیاب نہ ہو تو اس کے ذمہ فوری ادائیگی لازم نہیں اور نہ ہی بغیر محرم کے حج پر جانا اس کے لئے جائز ہے، بلکہ وہ مذکور بھتیجے کے بلوغ یا کسی بھی محرم کے دستیاب ہونے کا انتظار کرے، چنانچہ اگر کوئی صورت بن جاتی ہے تو اس محرم کے ساتھ حج کی ادائیگی کر لے، ورنہ وہ وصیت کرے کہ اس کے انتقال کے بعد اس کی طرف سے اس کے ترکہ سے حج بدل کی ادائیگی کی جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: (و) مع (زوج أو محرم) ولو عبدا أو ذميا أو برضاع (بالغ) قيد لهما كما في النهر بحثا (عاقل والمراهق كبالغ) جوهرة (غير مجوسي ولا فاسق) لعدم حفظهما (مع) وجوب النفقة لمحرمها (عليها) لأنه محبوس (عليها)الخ
و فی رد المحتار تحت(قوله ومع زوج أو محرم) هذا وقوله ومع عدم عدة عليها شرطان مختصان بالمرأة فلذا قال لامرأة وما قبلهما من الشروط مشترك والمحرم من لا يجوز له مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو صهرية كما في التحفة وأدخل في الظهيرية بنت موطوءته من الزنا حيث يكون محرما لها، وفيه دليل على ثبوتها بالوطء الحرام، وبما تثبت به حرمة المصاهرة كذا في الخانية نهر.
لكن قال في شرح اللباب ذكر قوام الدين شارح الهداية أنه إذا كان محرما بالزنا فلا تسافر معه عند بعضهم، وإليه ذهب القدوري وبه نأخذ اهـ وهو الأحوط في الدين والأبعد عن التهمة. اهـ.الخ(کتاب الحج ج:2 ص:464 ط:سعید)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ: (ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا في البدائع والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا في الخلاصة(الی قولہ) وتجب عليها النفقة والراحلة في مالها للمحرم ليحج بها، (الی قولہ) ووجود المحرم للمرأة شرط لوجوب الحج أم لأدائه، بعضهم جعلوها شرطا للوجوب وبعضهم شرطا للأداء، وهو الصحيح وثمرة الخلاف فيما إذا مات قبل الحج فعلى قول الأولين لا تلزمه الوصية وعلى قول الآخرين تلزمه كذا في النهاية اھ (کتاب المناسک ج:1 ص:218 ط:دارالفکر۔بیروت)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92923کی تصدیق کریں
0     29
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات