اگر کوئی مسافر سفر کے دوران کسی مقام پر پہنچ کر پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت کر لے تو شرعی حکم کے مطابق وہ مقیم شمار ہوگا اور اس کے لیے نماز میں قصر کرنا جائز نہیں رہے گا، بلکہ وہ مکمل نماز ادا کرے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر اس مسافر کے ساتھ اس کی زوجہ بھی ہو، لیکن زوجہ نے اپنی طرف سے صرف پانچ دن قیام کی نیت کی ہو، تو ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟
چونکہ فقہی اصول کے مطابق عورت سفر اور اقامت کی نیت میں اپنے شوہر کے تابع سمجھی جاتی ہے اور نیت کے اعتبار سے شوہر کی نیت ہی معتبر ہوتی ہے، اس لیے اس خاص صورت میں عورت کا حکم کیا ہوگا؟
کیا وہ قصر نماز ادا کرے گی یا شوہر کی نیت کے تابع ہونے کی وجہ سے مکمل نماز پڑھے؟
واضح ہو کہ یہ مسلمہ ضابطہ ہے کہ سفر اور اقامت (ٹھہرنے) میں بیوی اپنے شوہر کے تابع ہوتی ہے۔اب صورتِ مسئولہ میں اگر بیوی شوہر کی اجازت کے ساتھ مدت اقامت سے کم مدت کی نیت کرے گی تو وہ مسافر شمار ہوگی ورنہ شوہر کی نیت کا اعتبار کرتے ہوئے وہ بھی مسافر شمار ہو کر قصر کرے گی۔
کما فی الدر المختار: (والمعتبر نية المتبوع)لانه الاصل (لا التابع كامرأة) وفاها مهرها المعجل (وعبد) غير مكاتب (وجندي) إذا كان يرتزق من الامير أو بيت المال (وأجير) وأسير وغريم وتلميذ (مع زوج ومولى وأمير ومستأجر) لف ونشر مرتب.الخ
و فی رد المحتار تحت (قوله لأنه الأصل) فهو المتمكن من الإقامة والسفر (قوله وفاها مهرها المعجل) وإلا فلا تكون تبعا لأن لها أن تحبس نفسها عن الزوج للمعجل دون المؤجل ولا تسكن حيث يسكن بحر.قلت: وفيه أن هذا شرط لثبوت إخراجها وسفره بها على أحد القولين وكلامنا بعده ولهذا قال في شرح المنية والأوجه أنها تبع مطلقا لأنها إذا خرجت معه للسفر لم يبق لها أن تتخلف عنه. وقد يجاب: بأنها إذا ثبت لها حبس نفسها عن إخراجها من بلدها لأجل استيفاء معجلها فكذا يثبت لها إذا وصلت إلى بلدة أو قرية فتصح نيتها الإقامة بها لأنها حينئذ غير تبع له وإن كانت تبعا له في المفازة اھ (مطلب فی الوطن الاصلی ج: 3 ص: 133 ط: سعید)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ: الاصل أن من یمکنہ الاقامۃ باختیارہ یصیر مقیماً بنیۃ نفسہ و من لا یمکنہ الاقامۃ باختیارہ لا یصیر مقیماً بنیۃ نفسہ حتی أن المرأۃ اذا کانت مع زوجھا فی السفر و الرقیق مع مولاہ و التلمیذ مع استاذہ و الاجیر مع مستاجرہ و الجندی مع امیرہ فھؤلاء لا یصیرون مقیمین بنیۃ أنفسھم فی ظاھر الراویۃ کذا فی المحیط اھ (الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر ج:1 ص:141 ط: دار الکتب العلمیہ۔بیروت)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4مسافتِ سفر پر واقع ، جائے ملازمت پر ، کم از کم پندرہ دن ایک بار بھی قیام نہ کرنے کی صورت میں قصر کا حکم
یونیکوڈ نماز قصر 0