السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میرا ایک سوال ہے۔ اگر روزے کی حالت میں کسی سے ہینڈ پریکٹس (استمناء) ہو جائے اور روزہ ٹوٹ جائے تو کیا اس پر کفارہ لازم ہوتا ہے یا صرف قضا روزہ رکھنا ہوتا ہے؟
اور اگر کوئی شخص احتیاط اور غالب گمان کی وجہ سے ایک مہینے کے روزوں کا کفارہ ادا کرنا چاہے، لیکن معاشرتی مجبوری یا لوگوں کے سوالات کی وجہ سے 60 مسلسل روزے رکھنا مشکل سمجھتا ہو۔تو کیا ایسی صورت میں وہ ہر مسکین کو تقریباً 2.70 کلو گندم کے حساب سے ایک مہینے کے کفارے کی رقم دے دے اور ساتھ توبہ و استغفار بھی کرے تو کیا اس طرح کفارہ ادا ہو جائے گا؟ اور اگر ایسا کرنا درست ہو تو براہِ کرم یہ بھی بتا دیں کہ موجودہ گندم کی قیمت کے حساب سے ایک مہینے کے کفارے کی کل رقم کتنی بنتی ہے، کتنے مساکین کو دینی ہوگی اور ہر مسکین کو کتنی مقدار یا کتنی رقم دینا ضروری ہے؟ جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو كہ روزے کی حالت میں مشت زنی کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اس کی وجہ سے صرف قضاءلازم ہوتى ہے، کفارہ نہیں ، لہذا كفاره كے بارے مىں پرىشان ہونے كى ضرورت نہىں، البتہ اس عمل کی وجہ سے جتنے روزے توڑ دیے گئے ہیں، ان سب روزوں کی قضا لازم ہوگی، تاہم مشت زنی کرنا چونکہ ناجائز عمل ہے، اور روزہ کی حالت میں اس کی قباحت مزید بھی بڑھ جاتی ہے، اس لیے اس عمل پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے اجتناب لازم ہے۔
كما في روح المعانی: ومن الناس من استدل على تحريمه بشيء آخر نحو ما ذكره المشايخ من قوله ﷺ: «ناكح اليد معلون» وعن سعيد بن جبير: عذب الله تعالى أمة كانوا يعبثون بمذاكيرهم، وعن عطاء: سمعت قوما يحشرون وأيديهم حبالى وأظن أنهم الذين يستمنون بأيديهم والله تعالى أعلم اهـ [سورة المؤمنون الآية 1-22 ج:9 ص:214 ط: دار الكتب العلمية]
وفي رد المحتار: بخلاف ما إذا كان بكفه ونحوه وعلى هذا فلو أدخل ذكره في حائط أو نحوه حتى أمنى أو استمنى بكفه بحائل يمنع الحرارة يأثم أيضا ويدل أيضا على ما قلنا ما في الزيلعي حيث استدل على عدم حله بالكف بقوله تعالى {والذين هم لفروجهم حافظون} [المؤمنون: 5] الآية وقال فلم يبح الاستمتاع إلا بهما أي بالزوجة والأمة اهـ فأفاد عدم حل الاستمتاع أي قضاء الشهوة بغيرهما هذا ما ظهر لي والله سبحانه أعلم اهـ [كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، مطلب في حكم الاستمناء بالكف، ج:2 ص:399 ط: ايچ ايم سعيد)]
وفي الدر المختار: وکذا الاستمناء بالکف و ان کرہ تحریما لحدیث"ناکح الید ملعون" اهـ
وفی رد المحتار تحت قولہ: (و کذا الاستمناء بالکف) أی فی کونہ لا یفسد لکن ھذا إذا لم ینزل أما إذا أنزل فعلیہ القضاء کما سیصرح بہ و ھو المختاراھ (كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج 2، ص 399،ط:ایچ ایم سعید)
روزے کی حالت میں استنجاء کے وقت عورت کا گیلی انگلی شرمگاہ میں داخل کرنا- اس کے لۓ استنجاء کا طریقہ
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0روزہ کی حالت میں سورج غروب ہونے سے پہلے اور صبح صادق کے بعد کھانا یا کچھ پی لینا
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0روزے کی حالت میں اجنبیہ عورت کو بوسہ کے بعد نکلنے والے پانی سے روزی فاسد ہوتا ہے یا نہیں ؟
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0کیا روزے کی حالت میں ہم بستری کرتے ہوئے باہر فارغ ہونے سے کفارہ لازم ہوگا؟
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0