اگر سوتیلی ماں کا انتقال حقیقی باپ سے پہلے ہو جائے اور سوتیلی ماں کی کو ئی اولاد نہ ہو سوتیلے بچوں کو سوتیلی ماں کی طرف سے وراثت ملے گی ۔
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں ،تاہم اگر سائل کو اپنی سوتیلی والدہ کے ترکے میں حصہ داری کے متعلق معلوم کرنا ہو تو واضح ہو کہ سو تیلی اولاد اگرچہ سو تیلی والدہ مرحومہ کے ترکے میں شرعا حصہ دار نہیں ہوتی بلکہ مرحومہ کی حقیقی اولاد نہ ہونے کی صورت میں مرحومہ کا ترکہ اس کے دیگر ورثاء( والدین ،شوہر، بہن، بھائیوں وغیرہ) میں تقسیم ہوتا ہے، لیکن صورت مسئولہ میں اگر سائل کی سوتیلی والدہ مرحومہ کا ترکہ تقسیم ہونے سے قبل سائل کے والد مرحوم کا بھی انتقال ہو چکا ہو تو ایسی صورت میں سو تیلی اولاد اپنے والد کے توسط سے سوتیلی والدہ مرحومہ کے ترکے میں حصہ دار ہوگی،جس کا طریقہ کار ورثاء کی تفصیل اور والدین مرحومین کی وفات کی ترتیب معلوم ہونے کے بعد بتایا جا سکتاہے۔
کمافی الدر المختار: باب توريث ذوي الأرحام (هو كل قريب ليس بذي سهم ولا عصبة) فهو قسم ثالث حينئذ (ولا يرث مع ذي سهم ولا عصبة سوى الزوجين) لعدم الرد عليهما (فيأخذ المنفرد جميع المال) بالقرابة (و يحجب أقربهم الأبعد) كترتيب العصبات فهم أربعة أصناف جزء الميت، ثم أصله ثم جزء أبويه، ثم جزء جديه أو جدتيه (و) حينئذ (يقدم) جزء الميت و هم (أولاد البنات وأولاد بنات الأبن) وأن سفلوا (کتاب الفرائض، ج:٦،ص:٧٩٢،ط:سعید)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2