کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام درج ذيل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد نے آج سے تقریبا 35 سال پہلے ایک دکان پگڑی پر لی تھی اور انہوں نے پگڑی کی مدد میں 21 لاکھ روپے دئے تھے پھر ہم اس میں کاروبار کرتے رہے، دو سال پہلے دکان کے اصل مالک نے ہماری دکان سمیت پوری بلڈنگ بيچ دی خریدار کو یہ بتائے بغیر کے یہ دکانیں پگڑی پر میں نے دی ہے، بلکہ یہ کہا کہ یہ میرے کرایہ دار ہىں، پھر ہمارے اور خرىدار کے درمیان یہ بات سامنے آئی کہ آپ لوگ یا 66 لاکھ روپے لے کر دکان سے دستبردار ہو جائىں اور جو نئے دکان بنی گی (جس کی قیمت ایک کروڑ 37 لاکھ روپے ہے) اس کی قیمت دے کر دکان خرید لو۔
پھر ہمارے والد صاحب نے ہمارے بہن بھائیوں کو جمع کیا اور کہا کہ تم میں سے جو بھی رقم جمع کر كےدکان خریدنا چاہے تو خرید لے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ جو بھائی اس دکان کو خریدے گا تو وہ ان 66 لاکھ روپے کو جو دکان کا خریدار پگڑی کے اصول کے مطابق حوالہ کرے گا دیگر بہن بھائیوں کے درمیان شرعی طور پر تقسیم کرے گا بشرطیکہ اگر یہ رقم لینا جائز ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ نئے دکان جو میں نے ایک کروڑ 37 لاکھ روپے مىں لی ہے تو کیا میں شرعا والد نے جو رقم بتائی ہے (66 لاکھ روپے) اس کے دینے کا پابند ہو؟ یا 21 لاكھ روپے کا جو والد صاحب نے پکڑی قیمت میں دی تھی؟ حالانکہ مجھے واپس کچھ رقم بھی نہیں ملی ہے، نیز واضح رہے کہ دکان میں مزید کوئی خرچہ ڈیگوریشن وغیرہ نہیں کی تھی، بلکہ جس حالت میں 21 لاکھ میں لی تھی وىسے ہی حالت میں دکان واپس ملی ہے۔
واضح رہے کہ جب دکان پگڑی پر لی تھی تواصل مالک کو پانچ لاکھ روپے دیے تھے، اور یہ دکان چونکہ میرے والد اور چچا کے درمیان مشترک تھی، اس لیے جب چچا کا انتقال ہوا اور اس وقت دکان کا حساب لگایا گیا تو مالیات 21 لاکھ روپے بنی، اس لیے والد صاحب نے ادھا حصہ (ساڑھے دس لاکھ روپے) چچا کی اولاد کو دیے گئے۔
اولاً تو یہ جاننا چاہیے کہ مروجہ پگڑی کا معاملہ بہت سارے مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں، اور نہ ہی اس عمل کے ذریعہ پگڑی لینے والا اس مکان کا مالک ہوتا ہے،اور اگر مذکور دكان میں اضافی تعمیر یا مزید کوئی خرچہ ڈیگوریشن ىاکوئی اور کام وغیرہ نہ کرایا ہو تو یہ دکان مالک کو لوٹا تے وقت اس سے پگڑی میں دی گئی اصل رقم کے علاوہ اضافی رقم لینا بھى درست نہىں ہوگا، لہذا سائل نے اگر پگڑى یہ دکان ایک کروڑ 37 لاکھ روپے میں خرید لی ہے تو یہ دکان اب اس کی ذاتى ملکیت بن چكى ہے،جس میں دیگر بہن بھائیوں کا کوئی حصہ نہ ہوگا، لیکن جو رقم بطور پگڑی پہلے مالک کو دی گئی تھی، تو وه رقم چونکہ اصل مالک پر قرض ہے اس لیے اگر دکان میں مزید کوئی تعمیر وغیرہ کا کام والد کی جانب سے نہ کیا گیا تھا تو اس اصل مالک سے یا اس دوسرے خریدار کا اس پراپرٹی کو جملہ حقوق کے ساتھ خريدنے کی صورت میں اس سے ابتدائی طور پر پگڑی پہ دی گئی رقم مبلغ پانچ (5) لاکھ روپے لینا جائز ہوگا، اور یہ رقم ملنے کے بعد اگر والد صاحب انتقال کر چکے ہوں، تو تمام ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہوگا، البتہ اس پگڑی کی رقم کی وجہ سے اس دوکان کی خریدری میں سائل کو (66) لاکھ روپے اب کی جو بچت ہو چکی ہے اگر سائل اس میں سے کچھ رقم اپنی بہن بھائیوں میں اپنی مرضی سے تقسیم کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اور یہ بلا شبہ ان کی دلجوئی اور اجر و ثواب کا باعث ہوگا۔
كما في الدر المختار: وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها اهـ [كتاب البيوع، فروع في البيع، مطلب في بيع الجامكية، ج:4 ص:518 ط: ايچ ايم سعيد]
وفي فقه البيوع: فان بدل الخلو الذي يأخذه المؤجر في أول العقد لا ينطبق على مثل حق القرار الذي جوزه المتأخرون في الأراضي الوقفيه والسلطانيه ومن المقرر أن العاقد لا يجوز له أن يطالب العقد الأخر بعوض عن مجرد دخوله في العقد علاوة على ما يستحقه بالعقد فانه رشوة (إلى قوله) نعم! يجوز له أن يسترد منه ما دفع كبدل الخلو عند بداية العقد فإنه رشوة، يجب ردها إلى الدافع اهـ (بيع الحقوق المجردة، خلو الدور والحوانيت، ج 1، ص 273-274، ط: مكتبة معارف القرأن)
وفي فقه البيوع أيضاً: وأما المسألة الثالثة، وه وهي: هل يجوز للمستأجر القديم أن يطالب المستأجر الجديد مقابلاً لحقه فى البقاء على الإجارة؟، فالذين يجوزون بدل الخلو يجوزون ذلك أيضاً. أما على القول بمنع بدل الخلو، فإن كانت الإجارة غير محددة المدة، كما هو معروف في المؤجرات على سبيل الخلو، فلا يجوز أخذ هذا البدل من المستأجر الجديد. نعم! إذا حددت مدة أصل الإجارة، ثمّ تنازل المستأجر عن حقه قبل تلك المدة لمستأجر جديد، فإنّه يجوز له أن يأخذ عوضاً عن هذا التنازل اهـ (بيع الحقوق المجردة، خلو الدور والحوانيت، ج: 1، ص:274، ط: مكتبة معارف القرأن)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2