میں نے اپنی آمدنی کا 10% طے کیا ہوا ہے کہ یہ میں صدقہ کیا کروں گا، کیا اس میں سے میں اپنے بیوی بچوں پر بھی خرچ کر سکتا ہوں؟ اور کیا اپنے غریب رشتہ داروں کو بھی دے سکتا ہوں ؟جن کو فرض صدقہ نہیں لگتا ، اور براہ مہربانی اس صدقہ کا سب سے بہتر مصرف بھی بتا دیں کہ یہ کہاں خرچ کرنا زیادہ ثواب کا زریعہ بنے گا۔
صورت مسئولہ میں سائل نے اگر مذکور دس فیصد آمدنی کی نذر نہیں مانی تھی، بلکہ ویسے ہی سائل نے طے کیا ہوکہ "میں اپنی کل آمدنی کا دس فیصد اللہ کی راہ میں خرچ کروں گا" تو اس کی حیثیت نفلی صدقہ کی ہےاور نفلی صدقہ کے مصارف میں فقر و استحقاق شرط نہیں ، لہٰذا سائل اس رقم کواپنےاہل و عیال ، غریب ا ور مالدار رشتہ داروں سمیت ہرقسم کے خیر کے کاموں میں خرچ کرسکتا ہے ۔
كما مشكاة المصابيح : عن أبي هريرة قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: عندي دينار، قال: " أنفقه على نفسك "، قال عندي آخر، قال: " أنفقه على ولدك "، قال عندي آخر، قال: " أنفقه على أهلك "، قال: عندي آخر، قال: " أنفقه على خادمك "، قال: عندي آخر، قال: " أنت أعلم " رواه أبو داود والنسائي. (باب أفضل الصدقة، الفصل الثاني، ج: ١، ص: ٦٠٤، رقم الحديث: ١٩٤٠، مط: المكتب الاسلامي)
وفي البدائع : فركن النذر هو الصيغة الدالة عليه وهو قوله: " لله عز شأنه علي كذا، أو علي كذا، أو هذا هدي،أو صدقة، أو مالي صدقة، أو ما أملك صدقة، ونحو ذلك.(كتاب النذر، بيان ركن النذر و شرائطه، ج: ٥، ص: ٨١، مط: سعيد)