احکام حج

ایام حج میں انفرادی قربانی نہ ہونے کی وجہ سے ترتیب کا لحاظ کیسے رکھا جائے؟

فتوی نمبر :
94080
| تاریخ :
2026-04-12
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

ایام حج میں انفرادی قربانی نہ ہونے کی وجہ سے ترتیب کا لحاظ کیسے رکھا جائے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔استفتاء برائے مسئلہ قربانیِ حج (دمِ تمتع/قران) اور ترتیب محترم مفتی صاحب دامت برکاتکم !"السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ" امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔عرض یہ ہے کہ حج میں قربانی (دمِ تمتع یا قران) کے متعلق چند اشکالات درپیش ہیں، جن کی وضاحت مطلوب ہے:فقہ حنفی کے مطابق ایامِ نحر میں اعمالِ حج کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے رمیِ جمرہ عقبہ کی جائے، پھر قربانی کی جائے، اس کے بعد حلق یا قصر کیا جائے۔ اور اگر اس ترتیب کے خلاف عمل کیا جائے تو دم لازم آتا ہے۔موجودہ دور میں بالخصوص اس سال یہ صورت حال پیش آئی ہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے قربانی کے لیے بینک کے ذریعے اجتماعی نظام قائم کیا گیا ہے، جس میں حجاج کرام سے پہلے ہی قربانی کی رقم وصول کر لی جاتی ہے اور پھر ان کی طرف سے قربانی کر دی جاتی ہے۔ لیکن اس اجتماعی نظام میں: 1. نہ تو انفرادی طور پر ترتیب (رمی، پھر قربانی، پھر حلق) کا لحاظ رکھا جاتا ہے، 2. بلکہ قربانی کے وقت کا بھی تعین حجاج کے لیے واضح نہیں ہوتا۔مزید برآں، بعض معتبر علماء کرام اور اس شعبہ سے وابستہ باوثوق افراد کی طرف سے یہ معلومات بھی سامنے آئی ہیں کہ: • قربانیوں کی تعداد بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ ایامِ نحر (10 تا 12 ذوالحجہ) میں مکمل نہیں ہو پاتیں، • بلکہ بعض اوقات یہ سلسلہ ایامِ حج کے بعد بھی جاری رہتا ہے، • حتیٰ کہ بعض اطلاعات کے مطابق قربانیوں کا عمل بعد کے دنوں میں (ایامِ نحر کے بعد) بھی جاری رہتا ہے۔اگرچہ بینک کی طرف سے حاجی کو پیغام موصول ہو جاتا ہے کہ اس کی قربانی ہو چکی ہے، لیکن مذکورہ بالا معتبر اطلاعات اس کے خلاف احتمال پیدا کرتی ہیں۔اسی پس منظر میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں: 1. جب حنفیہ کے نزدیک ترتیب (رمی، قربانی، حلق) ضروری ہے، تو بینک کے اس نظام میں ترتیب کے فوت ہونے کی صورت میں کیا حکم ہوگا؟ کیا ہر حاجی پر دم لازم ہوگا یا دیگر ائمہ کے قول پر عمل کی گنجائش ہے؟۔ 2. اگر قوی احتمال یا معتبر ذریعے سے یہ معلوم ہو کہ قربانی ایامِ نحر کے اندر نہیں ہوئی، تو کیا ایسی صورت میں بینک کی قربانی پر اکتفا کرنا درست ہوگا یا حاجی پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی طرف سے الگ قربانی کا اہتمام کرے؟۔ 3. جبکہ اس سال سعودی حکومت کی طرف سے انفرادی طور پر مذبح (slaughterhouse) جانے یا خود قربانی کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، تو ایسی مجبوری کی حالت میں حاجی کے لیے شرعی حکم کیا ہوگا؟۔ 4. مذکورہ صورتِ حال میں حنفی حاجی کے لیے شرعاً کیا قابلِ عمل اور محتاط طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟۔براہ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں مفصل اور مدلل جواب مرحمت فرما دیں۔جزاکم اللہ خیراً۔والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ فقہاء احناف رحمہ اللہ کے نزدیک حج کے ایام میں رمی، قربانی اور حلق / قصر کے درمیان ترتیب کو ملحوظ رکھنا واجب ہے، جبکہ موجودہ حالات میں قربانی کا عمل حکومتی نظم کے تحت مخصوص نظام کے ذریعے انجام دیا جانا لازم اور ضروری قرار دیا گیا ہے ، لہٰذا فقہ حنفی سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ حتی المقدور اس ترتیب کی رعایت کو یقینی بنائیں ، چنانچہ اگر سعودی حکومت کے نامزد کردہ قربانی پر مامور ادارے کی طرف سے قربانی کا کوئی وقت متعین کیا گیا ہو تو حج تمتع اور حج قران کرنے والے حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ مقررہ وقت کے بعد ہی حلق یا قصر کا اہتمام کریں ، بلکہ دئے گئے وقت کے بھی ایک آدھ گھنٹہ بعد حلق کرائیں تو زیادہ بہتر ہے،لہٰذا بلاوجہ شکوک و شبہات اور غیر معتبر باتوں کی طرف توجہ دینے سے احتراز کیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی غنیۃ الناسک: ولو حلق المفرد او غیرہ قبل الرمی او القارن او المتمتع قبل الذبح او ذبحا قبل الرمی فعلیہ دم عند ابی حنیفۃؒ بترک الترتیب اھ (المطلب العاشر فی ترک الترتیب بین الرمی والذبح الخ، ص:279،280، م:ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ)
وفیھا ایضاً: ویختص حلق الحاج بالزمان والمکان عند ابی حنیفۃؒ اھ (فصل فی الحلق: ص:175، م: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ)
وفیھا ایضاً: والظاھر ان المروۃ افضل مواضع مکۃ وبالزمان وھو ایام النحر حتی لو ذبح قبلھا لم یجزہ بالاجماع ولو ذبح بعدھا اجزاہ بالاجماع ولکن کان تارکا للواجب عندالامام رحمہ اللہ تعالی وتارکا للسنۃ عند غیرہ من الائمۃ اھ (فصل فی شرائط وجوبہ ومکان ذبحہ وزمانہ، ص:207، م: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق غفور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94080کی تصدیق کریں
0     23
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات