السلام علیکم ورحمۃ اللہ ،زید نے چھ لاکھ روپے کا پلاٹ خریدا تھا اس وقت اس کی قیمت 8 لاکھ روپے ہو گئی ہے اس نے عمر سے دو لاکھ روپے یہ کہہ کر لے لیے ہیں کہ جب میری پلاٹ کی قیمت 10 لاکھ روپے ہوگی تو اٹھ لاکھ کے بعد جو دو لاکھ کا اضافہ ہوگا اس میں سے ایک ایک لاکھ روپے ہم دونوں تقسیم کر لیں گے اور تمہاری اصل رقم دو لاکھ بھی واپس دی جائے گی ،
عمر نے زید سے کہا کہ میں دو لاکھ روپے تمہیں دے رہا ہوں اور تمہارے پلاٹ کا 25 پرسنٹ میں مالک ہو جاؤں گا اب جتنے کا بھی پلاٹ بکے گا اس میں سے میں 25 پرسنٹ کا فائدہ اٹھاؤں گا اور نقصان ہوگا تو نقصان بھی 25 پرسنٹ میں اٹھاؤں گا دونوں نے یہی نیت کر لی ہے کاغذی کاروائی کچھ نہیں ہوئی ہے تاکہ وہ سودسے بچ سکیں اب اگر 10 لاکھ روپے کا پلاٹ بکتا ہے تو عمر 25 پرسنٹ کے حساب سے ایک لاکھ روپے کا مالک ہو جائے گا کیا یہ شرعی اعتبار سے جائز ہے یا کاغذی کاروائی ضروری ہے،جواب دے کر ممنون فرمائیں
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق زید اور عمرنے اگر چہ باقاعدہ کاغذی کاروائی نہیں کی تھی لیکن اگر زید نے اپنے ملکیتی پلاٹ کی قیمت لگا کراس کے 25 فیصد حصے میں عمر کو دولاکھ روپے کے عوض شریک کرلیا تھا تو شرعاً یہ شرکت درست منعقد ہو چکی تھی ،اب مذکور پلاٹ زید اور عمر کے درمیان 75 اور 25 کے تناسب سے مشترک ہے، لہذ ا اب اگر باہمی رضا مندی سے پلاٹ فروخت ہو جا ئے ( خواہ کسی بھی قیمت پر ہو ) تو حاصل شدہ رقم میں سے پچھتر فیصد رقم کا زید ، پچیس فیصد رقم کا عمر حق دار ہو گا ۔
وكما فی الہندیۃ : وشركة عقد وهي أن يقول أحدهما شاركتك في كذا ويقول الآخر قبلت، هكذا في كنز الدقائق ،الخ(ج: 2 الفصل الاول فی بیا ن انواع الشرکۃ ص : 301 ناشر : المطبعۃ الکبری الامیریہ)
وفی فتح القدیر : ولا تجوز الشركة إذا شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح)،الخ (ج: 6 فصل لاتنعقد الشرکۃ الا با الدرھم والدنانیر ص؛ 183 ناشر: شرکۃ مکتبۃ )
وفی درر الحکام : يكون رأس المال في شركة الأموال مشتركا بين الشريكين متساويا أو متفاضلا. أما في صورة عقد الشركة بينهما على أن يكون رأس المال من أحدهما والعمل من الآخر فإذا اتفق أن يكون الربح بينهما مشتركا تكون مضاربة كما ستأتي في الباب المخصوص،الخ(ج:3 المال فی شرکۃ الاموال ص: 366 ناشر: دار الجیل )
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0