احکام حج

رمی ، قربانی اور حلق میں ترتیب کا حکم

فتوی نمبر :
94376
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

رمی ، قربانی اور حلق میں ترتیب کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سعودی حکومت نے حج 2026ء کے موقع پر یہ پابندی عائد کی ہے کہ حجاج کرام اپنی قربانی حکومت کے منتخب عاملین ہی کے ذریعہ انجام دیں گے، اور اس کی مکمل رقم پیشگی طور پر "NUSUK MASAR" سسٹم کے ذریعے ادا کرنا لازمی ہوگی۔ مزید برآں حکومت کی طرف سے یہ بھی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ مقررہ عاملین کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے قربانی کرنا ممنوع ہے، اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ اور گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس صورت حال میں حجاج کرام کو اپنی قربانی کے انجام پانے کا علم نہیں ہو پا ئے گا کہ اس کی قربانی ہوگئی ہے یا نہیں ؟ تو ایسی صورت میں معلوم یہ کرنا ہے کہ جب حاجی کو اپنی قربانی کے ذبح ہونے کا علم حاصل نہ ہو تو وہ حلق یا قصر کب کرے؟اور مسلکِ احناف کے مطابق ایسے حالات میں حجاجِ کرام کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ فقہاء احناف رحمھم اللہ کے نزدیک حج کے ایام میں رمی، قربانی اور حلق/قصر کے درمیان ترتیب کو ملحوظ رکھنا واجب ہے لہذا موجودہ حالات میں جبکہ قربانی کا عمل حکومتی نظم کے تحت مخصوص نظام کے ذریعے انجام دیا جانا لازم اور ضروری قرار دیا گیا ہے ، اولاً تو فقہ حنفی سے تعلق رکھنے والے حجاج کو چاہیئے کہ وہ حتی المقدور اس ترتیب کی رعایت کو یقینی بنائیں ۔ چنانچہ اگر سعودی حکومت کے نامزد کردہ قربانی پر مامور ادارے کی طرف سے قربانی کا کوئی وقت متعین کیا گیا ہو تو حج تمتع اور حج قران کرنے والے حجاج کرام کو چاہیئے کہ وہ مقررہ وقت سے قبل رمی جمار اور مقررہ وقت کے بعد ہی حلق یا قصر کا اہتمام کریں ۔ تاہم اگر ادارے کی طرف سے قربانی کرنے کے لئے کوئی وقت طے نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی حجاج کرام کو اپنی قربانی کے ذبح ہوجانے کے متعلق سہولت کے ساتھ معلوم کرنا ممکن ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں اگر لاعلمی میں ان افعال کی ادائیگی میں تقدیم و تاخیر ہو بھی جائے تو چونکہ حلق یا قصر کا قربانی سے قبل یا رمی جمار کا قربانی کے بعد واقع ہونا یقینی طور پر معلوم نہیں ،نیز حضرات صاحبین رحمھما اللہ کے نزدیک مذکور افعال میں ترتیب کا لحاظ رکھنا بھی واجب نہیں اس لئے ان حالات میں لاعلمی میں مذکور افعال کے درمیان تقدیم و تاخیر واقع ہونے کی صورت میں حجاج کرام کے ذمہ کوئی دم لازم نہ ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري:اعلم أن ما یفعل في أیام النحر أربعۃ أشیاء: الرمي والنحر والحلق والطواف، وہٰذا الترتیب واجب عند أبي حنیفۃ ومالک وأحمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أن أول وقت صحة الطواف إذا طلع الفجر يوم النحر، ولو قبل الرمي والحلق، وأما الواجب فهو فعله في يوم من الأيام الثلاثة عند أبي حنيفة - رحمه الله -. اهـ.
وظاهره أنه لا يجب الترتيب بينه وبين الرمي والذبح والحلق، وفي الدر المختار عند عد الواجبات، والترتيب بين الرمي والحلق والذبح يوم النحر، وأما الترتيب بين الطواف وبين الرمي والحلق فسنة فلو طاف قبل الرمي والحلق لا شيء عليه ويكره لباب. اهـ. (ج3/ص 26)
وفی فتح القدير للكمال بن الهمام: (ومن أخر الحلق حتى مضت أيام النحر فعليه دم عند أبي حنيفة، وكذا إذا أخر طواف الزيارة) حتى مضت أيام التشريق (فعليه دم عنده وقالا: لا شيء عليه في الوجهين) وكذا الخلاف في تأخير الرمي وفي تقديم نسك على نسك كالحلق قبل الرمي ونحر القارن قبل الرمي والحلق قبل الذبح، لهما أن ما فات مستدرك بالقضاء ولا يجب مع القضاء شيء آخر. وله حديث ابن مسعود - رضي الله عنه - أنه قال: " من قدم نسكا على نسك فعليه دم " ولأن التأخير عن المكان يوجب الدم فيما هو موقت بالمكان كالإحرام فكذا التأخير عن الزمان فيما هو موقت بالزمان.
(قوله لهما أن ما فات مستدرك بالقضاء إلخ) ولهما أيضا من المنقول ما في الصحيحين «أنه - عليه الصلاة والسلام - وقف في حجة الوداع فقال رجل: يا رسول الله لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح، قال اذبح ولا حرج، وقال آخر: يا رسول الله لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي، قال: ارم ولا حرج، فما سئل يومئذ عن شيء قدم ولا أخر إلا قال افعل ولا حرج» . والجواب أن نفي الحرج يتحقق بنفي الإثم والفساد فيحمل عليه دون نفي الجزاء، فإن في قول القائل لم أشعر ففعلت ما يفيد أنه ظهر له بعد فعله أنه ممنوع من ذلك، فلذا قدم اعتذاره على سؤاله وإلا لم يسأل أو لم يعتذر. (3/62)
الحجة على أهل المدينة لمحمد بن الحسن الشيباني : اخبرنا محمد عن أبي حنيفة في الرجل يجهل وهو حاج فيحلق رأسه قبل ان يرمي الجمرة انه لا شيء عليه وقال أهل المدينة إذا جهل الرجل فحلق رأسه قبل ان يرمي الجمرة افتدى وقال محمد الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك مشهور بين انه سئل يوم النحر عمن حلق رأسه قبل ان يرمي قال ارم ولا حرج فما سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شيء يومئذ قدم ولا اخر الا قال افعل ولا حرج (2/372)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94376کی تصدیق کریں
0     37
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات