کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ سے متعلق کہ میرے شوہر کے انتقال کے بعد میں گھر میں کپڑوں پر "نگ" لگانے کا کام کرتی تھی، اس سے کچھ رقم میں نے فکس ڈپازٹ میں رکھ دیئے تھے، اور کچھ گھریلوں اخراجات نکالنے کے بعد اسی سے کچھ رقم میں محفوظ کرلیا کرتی تھی، میں نے اس سے ایک مکان بنایا اور اس سے مجھے اب کرایہ بھی آتا ہے، جس سے میرا گزر بسر ہے، اب میرا بڑا بیٹا یہ دعوی کررہا ہے، کہ اس کرایہ اور مکان میں میرا بھی حصہ ہے، حالانکہ اس مکان میں ساری لگی ہوئی رقم میری ذاتی کمائی سے تھی، تو کیا اس کا یہ مطالبہ کرنا درست ہے؟ جبکہ وہ اسی پر اصرار کرہا ہے ۔
نوٹ :مذکور مکان کی زمین بھی میں نے اپنے ذاتی پیسوں سے خریدی تھی۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی پر حقیقت ہو، اسمیں کسی قسم کی کمی بیشی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ مذکور مکان سائلہ نے اپنی ذاتی کمائی سے بنایا ہو، اسمیں سائلہ کے بڑے بیٹے کی کوئی رقم شامل نہ ہو اور نہ ہی مذکور مکان سائلہ کے شوہر کا ترکہ ہو، تو ایسی صورت میں مذکور مکان شرعا سائلہ ہی کی ملکیت ہے، چنانچہ مذکور مکان سے کرایہ کی مد میں جو رقم وصول ہورہی ہے وہ بھی شرعا سائلہ کی ملکیت ہے، اسمیں سائلہ کے بیٹوں ، بیٹیوں یا کسی اور کا کوئی حق نہیں، لہذا سائلہ کے بڑے بیٹے پر لازم ہے کہ اپنے اس ناجائز مطالبے سے دستبردار ہوکر مؤاخذہ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کرے۔
کما فی القرآن الکریم : للرجال نصیب ممااکتسبوا وللنساء نصیب ممااکتسبن ( سورۃ النساء، آیت نمبر: 32)
وفیہ ایضا : ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ( سورۃ البقرۃ، آیت نمبر: 188)
وفی الفقہ علی المذااھب الاربعۃ: وقول صلى الله عليه وسلم (كل أحد أحق بماله من ولده ووالده، والناس أجمعين) (مبحث اثاث القوانین الشرعیہ، ج: 5، ص: 358، ط: دارالکتب العلمیہ بیروت)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2