مفتی صاحب !
سوال یہ ہے کہ بزنس شو کرکے (0٪)لون لینا پھر اس سے گھر کے لئے سولر خریدنا کیسا ہے؟واضح رہے کہ لون صرف بزنس کے لئے ہی ملتا۔
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق اگر کسی حکومتی یا رفاہی ادارے وغیرہ کی طرف سے لوگوں کو کاروبار کرنے کے لئے ہی قرض کی فراہمی کی جارہی ہو،اور کوئی شخص کاروبار کرنے کے بجائے گھر کے لئے سولر خریدنے کی غرض سے کسی طرح دھوکہ دہی کے ذریعے اپنا کاروبار شو کرکے قرض وصول کرے تو ایسا کرنا غلط بیانی اور دھوکہ دہی پر مبنی عمل ہونے کی وجہ سے شرعا جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی مصنف بن ابی شیبۃ:
حدثنا شبابة، عن الليث، عن ابن عجلان، أن رجلا، من موالي عبد الله بن عامر حدثه، عن عبد الله بن عامر أنه قال: دعتني أمي يوما ورسول الله صلى الله عليه وسلم قاعد في بيتنا، فقالت: ها تعال أعطيك، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: «وما أردت أن تعطيه؟» قالت: تمرا، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أما إنك لو لم تعطه شيئا كتبت عليك كذبة۔(ج:5،ص:236،رقم الحدیث:25609،ط:مکتبۃ الرشد-الریاض)۔
وفیہ ایضا:«حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا الأعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أربع من كن فيه فهو منافق خالص، ومن كانت فيه خلة منهن كانت فيه خلة من نفاق حتى يدعها: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر "»(ج:5،ص:236،رقم الحدیث:25610،ط:مکتبۃ الرشد-الریاض)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0