ایک بھائی نے شادی کے لئے بہن سے 27 تولہ سونا لیا اور کہا کہ میں یہ سونا واپس کردونگا۔5 سال بعد تقریباً 9 لاکھ واپس دئیے اور اس وقت کے سونے کے حساب سے 9 تولہ سونا ختم کروا دیا۔اب 18 تولہ اور باقی ہے لیکن سونا بہت مہنگا ہوگیاہے،پوچھنا یہ ہے ےکہ بہن کو کیا آج کے سونے کا ریٹ جو کہ 5 لاکھ کے برابر ہے ادا کرنا ہوگا یا پرانے ریٹ کے حساب سے دینا ہوگا؟
جواب دیکر رہنمائی فرمائیں۔
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق مذکور بھائی نے اگر 27 تولہ سونا ہی اپنی بہن سے بطور قرض لیا تھا تو ایسی صورت میں بھائی کے ذمہ سونے کی صورت میں قرض واپس کرنا لازم تھا البتہ اگر بہن سونے کے بجائے اس کی قیمت لینے پر رضامند ہو تو ایسی صورت میں موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے قیمت لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
لہذا بھائی نے قرض دینے کے پانچ سال بعد جب بہن کو نو تولہ سونے کے عوض نو لاکھ روپے ادا کردئیے تو ایسی صورت میں بھائی کے ذمہ سے نو تولہ سونے کی حد تک قرض ساقط ہوچکا ہے،البتہ اس کے علاوہ اٹھارہ تولہ سونا اس کے ذمہ واجب الاداء ہے،چنانچہ اب بھائی کے ذمہ اپنی بہن کو اٹھارہ تولہ سونا یا بہن کی رضامندی سے موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق اٹھارہ تولہ سونے کی قیمت دینا لازم ہوگا۔
وكذلك لو قال: أقرضني عشرة دراهم بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها، وكذلك كل ما يكال، أو يوزن فالحاصل، وهو أن المقبوض على وجه القرض مضمون بالمثل، وكل ما كان من ذوات الأمثال يجوز فيه الاستقراض، والقرض لا يتعلق بالجائز من الشروط فالفاسد من الشروط لا يبطله، ولكن يلغو شرط رد شيء آخر فعليه أن يرد مثل المقبوض، وكذلك ما يعد من الجوز، والبيض، وإن اقترض الجوز بالكيل فهو جائز؛ لأنه يكال تارة، ويعد أخرى، وقد بينا جواز السلم في الجوز كيلا وعددا، وما فيه من خلاف زفر فكذلك حكم القرض فيه، والإقراض جائز مندوب إليه؛ لقوله: صلى الله عليه وسلم «القرض مرتين، والصدقة مرة»، وقال صلى الله عليه وسلم «الصدقة بعشر أمثالها، والقرض بثمانية عشر»، وقيل: معناه أنه لا«يستقرض إلا المحتاج، وقد يتصدق على غير المحتاج، ثم الأصل فيه أن ما يكون مضمونا بالمثل على الغاصب، والمستهلك له يجوز استقراضه؛ لأن المقبوض بحكم القرض مضمون بالمثل من غير احتمال الزيادة، والنقصان، وما يكون مضمونا بالقيمة لا يجوز الاستقراض فيه؛ لأن طريق معرفة القيمة الحزر والظن، فلا تثبت به المماثلة المعتبرة في القرض كما لا تثبت به المماثلة المشروطة في مال الربا، وأصل آخر، وهو أن القرض في معنى العارية؛ لأن ما يسترده المقرض في الحكم كأنه عين ما دفع؛ إذ لو لم يجعل كذلك كان مبادلة الشيء بجنسه نسيئة، وذلك حرام فكل ما يحتمل حقيقة الإعارة مما ينتفع به مع بقاء عينه لا يجوز إقراضه؛ لأن إعارته لا تؤثر في عينه حتى لا تملك به العين، ولا يستحق استدامة اليد فيه، فكذلك إقراضه لا يثبت ملكا صحيحا في عينه، وكل ما يتأتى فيه الإعارة حقيقة مما لا ينتفع به إلا مع بقاء عينه، فإقراضه وإعارته سواء؛ لأن منافعه لا تنفصل عن عينه فإقراضه وإعارته تمليك لعينه.»(ج:14،ص:31،ط:مطبعۃ السعادۃ-مصر)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0