کیا بینکوں سے سبسڈی والے فکس ریٹ پر %5 پر گھر کا قرض حلال ہے؟ حکومت نے ہاؤس لون کے لیے اسکیم کا اعلان کیا ہے، میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا یہ حلال ہے؟
واضح ہو کہ حکومت نے جس ہاؤس لون اسکیم کا اعلان کیا ہےتو کمرشل بینکوں سے مذکورہ اسکیم لینے میں چونکہ سودی معاملہ کرنا پڑتا ہے، اس لیے ان سے لینا تو درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ جن غیر سودی بینکوں کے مالی معاملات مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں طے پاتے ہیں، اگر مذکورہ اسکیم کا طریقہ کار بھی بینک کے شرعیہ بورڈ سے منظور شدہ ہو تو اس کے مطابق مذکورہ بینک سے اس اسکیم کے تحت گھر بنوانے کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
قال الله تبارك وتعالى: ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٢٧٨ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَكُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٰلِكُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ وَلَا تُظۡلَمُونَ ﴾ [البقرة: 278-279]
وفي الدر المختار: «وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن». (5/ 166)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0