کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے بڑے بھائی کا انتقال ہو چکا ہے، ان کے ورثاء میں بیوہ اور ایک بیٹا، ایک بیٹی حیات ہیں، جبکہ ہمارے والدین الحمدللہ حیات ہیں، بڑے بھائی کے انتقال کے بعد ہماری بھابھی یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ والد صاحب کی جائیداد سے جو حصہ بڑے بھائی کا ہے وہ مجھے دیا جائے، اور اس بات پر اصرار کر رہی ہیں، تو معلوم یہ کرنا ہے کہ والدین کی حیات میں ان کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟ اور کیا ان کا کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح فرمائیں۔
والدین کی زندگی میں ان کے جائیداد میں ان کی زندہ اولاد کا کوئی حق نہیں بنتا اور نہ ہی وہ اس میں حصہ داری کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں، تو ان کی زندگی میں انتقال کرنے والے بیٹے کی اولاد یا بیوہ کا تو بدرجۂ اولیٰ اس مطالبہ کا حق حاصل نہیں۔ لہٰذا سائل کے مرحوم بھائی کی بیوہ کا اپنے سسر کی جائیداد میں اپنے یا اولاد کے حصہ داری کا مطالبہ کرنا قطعاً غلط اور غیر شرعی ہے، اس لیے اسے اپنے اس ناجائز مطالبہ سے احتراز لازم ہے، تاہم سائل کے والد اگر اپنے یتیم پوتے پوتیوں یا بیوہ بہو سے احسان کا معاملہ کرتے ہوئے اپنی جائیداد میں سے انہیں اپنی مرضی سے کچھ حصہ بطورِ گفٹ دے دیں، تو ان کی طرف سے تبرع اور باعثِ اجر و ثواب ہوگا، ان کو ایسا ہی کرنا چاہیئے۔
كما في دررالحكام:لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره (انظر المادة 1192) (منافع الدقائق، والأشباه اھ(الباب الرابع في بيان المسائل التي تتعلق بمدة الإجارة،ج:١،ص:٥٩٩،ط:دار الجيل)
وفيه ايضاََ: كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير.(الكتاب العاشر الشركات،الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة بأملاك، ج: ٣، ص: ٢٠١، رقم المادة : ١١٩٢، مط: دار الجيل)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2