السلام علیکم! مجھے ایک مسئلے کا فتویٰ معلوم کرنا ہے۔ اس وقت جو وزیرِ اعظم لون اسکیم چل رہی ہے، میں گھر کے لیے وہ لون لینا چاہتا ہوں۔ تو کیا اس کا لینا درست ہے؟ اس لون پر مجھے بینک کو 5٪ اضافی رقم دینی ہوگی، لیکن یہ اقساط (انسٹالمنٹ) کی صورت میں ہوگی۔ اور بینک گھر کی فائل کے بدلے مجھے قرض دے گا۔ اس قرض کی مدت 20 سال ہوگی، جس کے دوران گھر کی قیمت میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ اگر یہ درست ہے تو براہِ کرم مجھے اس کا فتویٰ فراہم کر دیں۔ جزاک اللہ خیر۔
واضح ہو کہ حکومت نے جس ہاؤس لون اسکیم کا اعلان کیا ہے تو کمرشل بینکوں سے مذکور اسکیم لینے میں چونکہ سودی معاملہ کرنا پڑتا ہے، اس لیے ان سے لینا تو درست نہیں، جس سے احترام لازم ہے، البتہ جن غیر سودی بینکوں کے مالی معاملات مستند مفتیان کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں طے پاتے ہیں، اگر مذکورہ اسکیم کا طریقہ کار بھی بینک کے شرعیہ بورڈ سے منظور شدہ ہو تو اس کے مطابق مذکورہ بینک سے اس اسکیم کے تحت گھر بنوانے کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
قال الله تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾ (النساء: 29)۔
قال للہ تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
و فی صحيح مسلم : عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء (باب لعن آكل الربا ومؤكله، ج 5، ص50، رقم : 1598، ط: دار الطباعة العامرة، تركيا)۔
وفی السنن الكبرى للبيهقي : عن فضالة بن عبيد صاحب النبى صلى الله عليه وسلم أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا. (باب: كل قرض جر منفعة فهو ربا ، ج 11، ص294، رقم : 11037، ط: مركز هجر للبحوث والدراسات العربية والإسلامية، القاهرة)۔
و فی الدر المختار : وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن الخ (فصل في القرض، ج 5، ص166، ط: سعيد)۔
وفي رد المحتار : تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به الخ (مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج 5، ص166، ط: سعيد)۔
وفيه أيضا : والحاصل : أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبهالخ (مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج 5، ص99، ط: سعيد)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0