لڑکی کیلئے میرب نام رکھنے کی شرعی حیثیت اور اس کا معنی کیا ہے ۔
شکریہ
میرب عربی زبان میں ’’ا ، ر، ب‘‘ کے مادہ (حروف اصلی ) سے اسم آلہ کا صیغہ ہے، جس کے معنی ’’حاجت و ضرورت پورا کرنے کا آلہ‘‘ کیے جاتے ہے، اس معنی کے لحاظ سے اگرچہ یہ نام رکھنے میں شرعا کوئی مضائقہ نہیں ہے، تاہم بہتر اور افضل یہ ہے کہ صحابیات و غیرہ نیک و صالح خواتین کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کیا جائے۔
في تاج العروس من جواهر القاموس: والإِرْبُ الحَاجَةُ كالأُرْبَةِ بالكسر والضَّمِّ(إلى قوله) وفي حديث عائشةَ رضي اللّه عنها «كَانَ رسولُ اللّه صلّى اللّه عليه وسلّم أَمْلَكَكُمْ لِأَرَبِهِ»أَيْ لِحَاجَتِه، تَعْنِي أَنَّهُ صلّى اللّه عليه وسلّم كَانَ أَغْلَبَكُمْ لِهَوَاهُ وحَاجَتِه، أَيْ كَانَ يَمْلِكُ نَفْسَه وهَوَاهُ (إلى قوله) وقال ابنُ الأَثيرِ: أَكْثَرُ المُحَدِّثينَ يَرْوُونَه بفَتْح الهَمْزَةِ والرَّاءِ يَعْنُونَ الحَاجَة، وبعضُهم يَرْوِيهِ بكَسْرِهَا وسكون الرَّاءِ وله تَأْوِيلَانِ: أَحَدُهُمَا أَنَّه الحَاجَة اہ (۱/۲۹۸ باب الباء، فصل الہمزۃ)