السلام عليكم ورحمۃ اللَّهَ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ حج تمتع اور قران والوں کی دمِ شکر کی قربانی چونکہ سرکاری مذبح خانوں میں ہوتی ہے اور آجکل سر منڈوانے سے پہلے ان کے ذبح ہونے کا یقینی معلوم ہونا مشکل ہے، لہذا اگر حاجی کسی طرح اپنے طور پر یا وکیل کے ذریعے حدودِ حرم میں حلق سے پہلے دوسری قربانی کریں اور اس سرکاری قربانی کو مقیم صاحب نصاب ہونے کی صورت میں عید کی قربانی قرار دیں یعنی اس میں عید کی قربانی کی نیت کریں، تو کیا یہ صحیح ہے اور اس سے عید کی قربانی ادا ہوجائے گی ؟حل فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔
نوٹ مسئلہ فوری نوعیت کا ہے
صورتِ مسئولہ میں اگر حجِ تمتع یا قرآن کرنے والا شخص حلق سے پہلے اپنے طور پر یا وکیل کے ذریعے حدودِ حرم میں الگ جانور ذبح کرکے دمِ شکر ادا کرلے، تو اس کا واجب دم ادا ہوجائے گا، اور اس کے بعد سرکاری مذبح خانہ میں ہونے والی قربانی چونکہ اب دمِ شکر کے لیے ضروری نہیں رہی، لہٰذا اگر قربانی کرنے والا ایامِ نحر میں مقیم اور صاحبِ نصاب ہو تو وہ اس سرکاری قربانی کو اپنی عید کی قربانی قرار دے سکتا ہے، بشرطیکہ قربانی ایامِ نحر ہی میں واقع ہو۔ اس صورت میں سرکاری قربانی اُضحیہ کے طور پر معتبر ہوگی اور اس سے عید کی قربانی ادا ہوجائے گی؛ کیونکہ دمِ شکر پہلے مستقل قربانی کے ذریعے ادا ہوچکا ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: ووجہہ أن نیۃ التعیین قارنت الفعل وہو الشراء فأوجبت تعیین المشتری للأضحیۃ إلا أن تعیینہ للأضحیۃ لا یمنع جواز التضحیۃ بغیرہا۔ (۴/۲۰۲)
وفی التاتارخانیۃ: إذا اشتریٰ شاۃ ینوی بہا الأضحیۃ ففی ہذا الوجہ فی ظاہر الروایۃ لاتصیر أضحیۃ مالم یوجبہا بلسانہ۔ (۱۷/۴۱۲)