گزارش یہ ہے کہ میں کورٹ میں پیشکار ہوں، کیس والے حضرات مجھے یا میرے دراز میں پیسے دیتے ہیں کوئی میٹھائی کا بولتاہے،اور کوئی خرچہ، کیا اس قسم کے پیسے میرے لیے لینا حلال ہیں؟ اور جب میں کیس والے حضرات سے بولتا ہوں کہ میں رشوت نہیں لیتا تو وہ مجھے کہتے ہیں کہ بھائی سمجھ کر رکھ لو، جب کہ میں جو بھی کام کرتا ہوں، وہ قانون کے عین مطابق ہوتا ہے، میرے پاس اس وقت کچھ پیسے موجود ہیں، اب ان کا میں کیا کروں؟ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
سائل جس منصب پر فائز ہے، اس کے لیے لوگوں سے پیسے ھدیۃً بھی لینا درست نہیں، اس لیے جتنے پیسے اب تک لیئے ہیں، اگر مالک معلوم ہوں، تو ان کو واپس کرنا ورنہ مالکان کی طرف سے ان پیسوں کو صدقہ کرنا لازم ہے۔
کما فی الھندیة: الهدية مال يعطيه ولا يكون معه شرط والرشوة مال يعطيه بشرط أن يعينه كذا في خزانة المفتين. ولا يقبل هدية إلا من ذي رحم محرم، أو ممن جرت عادته قبل القضاء بمهاداته لكن هذا إذا لم تكن للقريب، أو لمن جرت عادته بمهاداته خصومة. وحاصل ذلك أن هدايا القاضي أنواع. هدية لمن له خصومة وليس له أن يقبلها سواء كانت بين القاضي وبين المهدي مهاداة قبل القضاء أو لم تكن وسواء كانت بينهما قرابة، أو لم يكن. وكذا في كل موضع ليس له أن يقبل كذا في الخلاصة، الخ (3/330)۔
وفیھا ایضاً: ونوع منها أن يهدي الرجل إلى رجل مالا ليسوي أمره فيما بينه وبين السلطان ويعينه في حاجته، وإنه على وجهين. الوجه الأول أن تكون حاجته حراما، وفي هذا الوجه لا يحل للمهدي الإعطاء ولا للمهدى إليه الأخذ. الخ (3/331)۔