"اپنا گھر پروگرام " میں گھرلینا
السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ!
مذکورہ بالا گھر لینا ازروئے شریعت کیسا ہے ؟
تفصیل سے جواب دیں۔
جزاکم اللہ خیرا
نیچے لنک پر مزید تفصیل اور معلومات دیکھیں
https://mohw.gov.pk/SliderDetail/MzNlZDgwMzQtYzA2Ny00NDg2LTkxNmQtYjc4ZGI4YWRkZDk3
مذکورہ حکومتی اسکیم اپنا گھر پروگرام حاصل کرنے کا شرعی حکم یہ ہے کہ اس کی تمویل اگر کسی سودی مالیاتی ادارے کے ذریعہ حاصل کی جائے تو چونکہ سودی مالیاتی ادارے یہ تمویل سودی قرضہ دے کر فراہم کرتے ہیں ، اور سودی قرض کا معاملہ شرعاً نا جائز و حرام اور گناہ کبیرہ ہے،لہذا سودی اداروں سے مذکور سہولت لینے سے بہر صورت احتراز لازم ہے،البتہ اگر یہ اسکیم کسی غیر سودی مالیاتی ادارے سے حاصل کی جائے ، جبکہ وہ مالیاتی ادارہ مستند اور قابلِ اعتماد علماء کرام کی زیر نگرانی شرعی اور جائز طریقہ ہائے تمویل (شرکت متناقصہ وغیرہ )کو اختیار کر کے یہ سہولت فراہم کر رہا ہو ، تو ایسے غیر سودی مالیاتی ادارے کے ذریعہ مذکورہ حکومتی اسکیم کی سہولت حاصل کی جاسکتی ہے۔
قال الله تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾ (النساء: 29)۔
قال للہ تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
و فی صحيح مسلم : عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء (باب لعن آكل الربا ومؤكله، ج 5، ص50، رقم : 1598، ط: دار الطباعة العامرة، تركيا)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0