السلام علیکم، میری کنکریٹ بلاک فیکٹری ہے اور میرے ریت بجری کے لیے ایک ڈمپر گاڑی مستقل میرے ساتھ کام کرتی ہے، ان کا میرے اوپر پانچ لاکھ ادھار ہے اور ادھار ہونے کے ساتھ ساتھ کام بھی مستقل کرتے ہیں، ہر روز 1 یا 2 ٹرپ لگاتے بھی ہیں، اور کل گاڑی کے خود مالک نے کہا کہ: “اسامہ! اگر تو مجھے 1 لاکھ دے تو میں تجھے 1 گاڑی فری اتار دوں گا۔” تو کیا یہ میرے اور اس گاڑی والے کے لیے جائز اور حلال ہے یا نہیں؟ مالک نے خود کہا۔ پلیز رہنمائی کر دیں۔
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں، تاہم اگر ڈمپر کے مالک نے سائل کو پانچ لاکھ روپے قرض دئیے ہوں اور اب وہ اپنے قرض میں سے ایک لاکھ کی واپسی پر سائل کو ایک ڈمپر ریت اور بجری مفت فراہم کررہا ہو تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اس کی مکمل وضاحت کرکے سوال دوبارہ ای میل کردیں تو اس پر غور وفکر کے بعد ان شاء اللہ تعالیٰ حکم شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔
ففي سنن الترمذي: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أنظر معسرا أو وضع له أظله الله يوم القيامة تحت ظل عرشه، يوم لا ظل إلا ظله.» (2/ 575 ت بشار)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0