احکام حج

وقت کے اعتبار سے حج کب فرض شمار ہوگا؟

فتوی نمبر :
95540
| تاریخ :
2026-05-20
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

وقت کے اعتبار سے حج کب فرض شمار ہوگا؟

میرا حج سے 15 دن پہلے 20 لاکھ روپے کا پلاٹ فروخت ہوا، اور اس کی رقم وقفے وقفے سے موصول ہوئی ہے، جبکہ ابھی بھی کچھ رقم باقی ہے۔ کیا مجھ پر حج فرض ہو گیا ہے یا نہیں؟
نیز یہ بھی وضاحت فرما دیں کہ حج کن شرائط کے ساتھ فرض ہوتا ہے اور کن صورتوں میں فرض نہیں ہوتا؟
شکریہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حج کی فرضیت کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ آدمی عاقل، بالغ، آزاد اور صاحبِ استطاعت ہو۔ استطاعت سے مراد یہ ہے کہ حج پر جانے اور واپس آنے کے تمام سفری اخراجات، نیز واپسی تک اپنے زیرِ کفالت افراد کےکھانے ،پینےاوردیگربنیادی اخراجات کی ادائیگی پرقادرہو ۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں حج کی تیاری کے ایام میں اگر پلاٹ کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے اتنی رقم سائل کی ملکیت اور قبضے میں آجائے کی جس سے حج کے سفری اخراجات اوردیگربنیادی ضروریات کاانتظام ہوسکتاہو، تو سائل صاحبِ استطاعت شمار ہوگا اور اس پر حج فرض ہوگا، ورنہ نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الهداية في شرح بداية المبتدي : الحج واجب على الأحرار البالغين العقلاء الأصحاء إذا قدروا على الزاد والراحلة فاضلا عن المسكن وما لا بد منه وعن نفقة عياله إلى حين عوده وكان الطريق آمنا۔ (1/ 132)
وفی المحيط البرهاني لمحمود النجاري: وفي «الأصل»: إذا كان له دار يسكنها، وعبد يستخدمه وثياب يلبسها، ومتاع يحتاج إليه، لا تثبت به الاستطاعة، وذكر القدوري في «شرحه»: إذا كان له دار لا يسكنها وعبد لا يستخدمه، فعليه أن يبيعه ويحج به، وكل ذلك يشير إلى اعتبار الفراغ عن الحاجة الأصلية. (2/ 690)
وفی الفتاوى الهندية : وإن كان صاحب ضيعة إن كان له من الضياع ما لو باع مقدار ما يكفي الزاد والراحلة ذاهبا وجائيا ونفقة عياله ، وأولاده ويبقى له من الضيعة قدر ما يعيش بغلة الباقي يفترض عليه الحج ، وإلا فلا (5/ 456)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95540کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات