میرے بھائی بھابی حج پر ہیں ۔بھابی کی طبیعت مزدلفہ میں خراب ہو گئی ۔2گھنٹے ہسپتال میں داخل رکھا۔اور آرام کا کہا۔بھائی بیگم کو لیکر ہوٹل آگئے ۔اور اپنی اور بیگم کی رمی دوست کو دے دی جس نے ان کے لئے کنکریاں بھی لے لی تھیں اور بھائی بھابی کی رمی دوست نے کرلی۔منی تک واپس جانے کے بجائے وہ ہوٹل آگئے ۔بھابی کو اکیلا چھوڑکر نہیں جاسکتے تھے۔کیا یہ رمی ٹھیک ہوئی یا خود کرنی ہوگی؟اب اگر خود کرنی ہوگی تو اب گورمنٹ کی قربانی پہلے ہو جائے گی ۔ وہ اب ہوٹل سے مکہ جارہے ہیں، تاکہ حلق اور طواف زیارت کر کے منی واپس جائیں،کیا یہ صحیح ہے ؟
سائل کی بھابھی چونکہ بیمار تھی، اس لیے مذکور شخص کا اس کی طرف سے رمی کرنا شرعاً جائز اور درست ہوگیا، لہذا بھابھی پر کچھ لازم نہیں، البتہ سائل کے بھائی کا اپنی طرف سے رمی کے لیے دوست کو کہنا درست نہیں تھا، چنانچہ اگر انہوں نے خود اس دن کی رمی نہیں کی ہو تو اس پر ایک دم لازم ہوگیا ہے۔
ففي غنية الناسك: السادس: أن يرمي بنفسه فلا تجوز النيابة فيه عند القدرة وتجوز عند العذر. (ص: 300)
وفيه أيضا: قد تبين مما قدمنا أنهم جعلوا خوف الزحام عذرا للمرأة ولمن به علة أو ضعف في تقديم الرمي قبل طلوع الشمس أو تأخيره الى الليل لا في جواز النيابة عنهم لعدم الضرورة فلو لم يرمو بأنفسهم لخوف الزحام تلزمهم الفدية والله سبحانه وتعالى أعلم. (ص: 301)