مجھ سے ایک صاحب نے یہ کہہ کر ایک پلاٹ خریدا تھا کہ انہیں کاروبار کے لیے فوری طور پر پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ تین ماہ بعد وہ یہ پلاٹ مجھے واپس دلوا دیں گے اور اس دوران سوسائٹی کے جتنے واجبات (ڈیوز) ہوں گے وہ بھی خود ادا کریں گے۔ اب تقریباً ایک سال گزر چکا ہے۔ اس دوران پلاٹ کی قیمت تقریباً دوگنی ہو چکی ہے، اور جس شخص کو انہوں نے یہ پلاٹ فروخت کیا تھا وہ اس پر گھر کی تعمیر بھی شروع کر چکا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ شریعت کی رو سے اس معاملے کا کیا حکم ہے؟ مجھے وہی پلاٹ واپس چاہیے۔ اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے اور ان صاحب پر شرعاً کیا لازم ہے؟ مزید یہ کہ وہ صاحب بظاہر بہت آسودہ اور پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں، حج اور قربانی بھی کر رہے ہیں، جبکہ میری مالی حالت کمزور ہو گئی ہے اور گزر بسر میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ براہِ کرم اس مسئلے کے بارے میں شریعت کا حکم بیان فرمائیں۔
سائل نے اپنے اور مذکور صاحب کے درمیان ہونے والے عقد کی پوری تفصیل ذکر نہیں کی، تاکہ حقیقی صورت حال کے مطابق کوئی حتمی جواب دیا جاتا، تاہم اگر سائل اور مذکور شخص کے درمیان پلاٹ کی خریداری کا معاملہ کرتے وقت پلاٹ کی واپسی کی شرط صلبِ عقد میں لگائی گئی تھی تو یہ معاملہ شرعاً ناجائز اور قابل فسخ تھا، لیکن جب مذکور شخص نےوہ پلاٹ آگے فروخت کردیا تو اب سائل کے لیے اس سے مذکور پلاٹ کا مطالبہ کرنا درست نہیں، البتہ وہ اس پلاٹ کی قیمت (جو بوقت عقد طے ہوئی تھی) کا مطالبہ کرسکتا ہے۔
ففي حاشية ابن عابدين: «وفي الخيرية فيما لو أطلق البيع ولم يذكر الوفاء إلا أنه عهد إلى البائع أنه إن أوفى مثل الثمن يفسخ البيع معه أجاب: هذه المسألة اختلف فيها مشايخنا على أقوال. ونص في الحاوي الزاهدي أن الفتوى في ذلك أن البيع إذا أطلق ولم يذكر فيه الوفاء إلا أن المشتري عهد إلى البائع أنه إن أوفى مثل ثمنه فإنه يفسخ معه البيع يكون باتا حيث كان الثمن ثمن المثل أو بغبن يسير اهـ وبه أفتى في الحامدية أيضا» (5/ 277)
وفي الفتاوى الهندية: «ويكره للمشتري أن يتصرف فيما اشترى شراء فاسدا بتمليك أو انتفاع لكن مع هذا لو تصرف فيه تصرفا نفذ تصرفه ولا ينقض تصرفه ويبطل به حق البائع في الاسترداد سواء كان تصرفا يحتمل النقض بعد ثبوته كالبيع وأشباهه أو لا يحتمل النقض كالإعتاق وأشباهه إلا الإجارة والنكاح فإنهما لا يبطلان حق البائع في الاسترداد كذا في المحيط» (3/ 147)
وفي الهداية في شرح بداية المبتدي: «قال: "ولكل واحد من المتعاقدين فسخه" رفعا للفساد، وهذا قبل القبض ظاهر؛ لأنه لم يفد حكمه فيكون الفسخ امتناعا منه، وكذا بعد القبض إذا كان الفساد في صلب العقد لقوته، وإن كان الفساد بشرط زائد فلمن له الشرط ذلك دون من عليه لقوة العقد، إلا أنه لم تتحقق المراضاة في حق من له الشرط.
قال: "فإن باعه المشتري نفذ بيعه"؛ لأنه ملكه فملك التصرف فيه وسقط حق الاسترداد لتعلق حق العبد بالثاني ونقض الأول لحق الشرع وحق العبد مقدم لحاجته ولأن الأول مشروع بأصله دون وصفه، والثاني مشروع بأصله ووصفه فلا يعارضه مجرد الوصف؛ ولأنه حصل بتسليط من جهة البائع»(3/ 52)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0