احکام حج

احرام کھولنے سے پہلے خوشبو لگانے کا حکم

فتوی نمبر :
95813
| تاریخ :
2026-05-29
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

احرام کھولنے سے پہلے خوشبو لگانے کا حکم

مفتی صاحب! اگر کوئی عورت دس ذی الحج کو قربانی کے بعد بال کٹوانا بھول جائے، لیکن بارہ ذی الحج کو یاد آنے پر فوراً بال کاٹ لے تو کیا اس پر کفارہ لازم ہوگا؟ جبکہ دس اور گیارہ ذی الحج کو خوشبو بھی لگائی ہو تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ براہ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر عورت نے دس ذی الحج کے افعال (رمی اور قربانی) مکمل کرنے پر بال نہیں کٹوائے تو وہ احرام سے نہیں نکلی، بلکہ اس کا احرام بال کٹوانے تک باقی تھا، تاخیر کی وجہ سے تو کوئی دم لازم نہیں ہوگا، البتہ بال کٹوانے سے قبل دس اور گیارہ ذی الحج کو جو خوشبو لگائی ہے تو اس کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر دونوں دن کپڑوں اور بدن پر خوشبو اتنی زیادہ مقدار میں لگائی ہو جو ایک عضو کے برابر یا اس سے زیادہ مقدار بنتی ہو تو دو دم لازم ہوں گے، تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو مکرر سوال پوری وضاحت کے ساتھ لکھ کر جمع کرادیا جائے تو ان شاء اللہ تعالیٰ غور وفکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي غنية الناسك: ولو طيب حميع أعضائه في مجلس واحد كفاه دم وفي مجالس لكل طيب كفارة فان شمل عضوا كبيرا كاملا أو أكثر فدم والا فصدقة والبدن كله كعضو واحد ان اتحد المجلس والا فلكل طيب كفارة ولو طيب مواضع متفرقة يجمع ذلك فلو بلغ عضوا كاملا فعليه دم والا فصدقة. (ص: 382)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالوہاب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95813کی تصدیق کریں
0     35
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات