السلام علیکم مفتی صاحب!
میں ایک شہر کا رہائشی ہوں اور دوسرے شہر میں نوکری کرتا ہوں۔ دونوں شہروں کے درمیان عام فاصلہ دریا کے پل سے 145 کلومیٹر ہے، اس لیے میں وہاں قصرِ نماز ادا کرتا ہوں۔ عام طور پر میں وہاں 6 دن قیام کرتا ہوں۔ کبھی کبھار زیادہ سے زیادہ 13 یا 14 دن قیام ہوا ہے، لیکن پچھلے 2-3 سالوں میں یہ صرف ایک آدھ بار ہی ہوا ہے۔ تین سالوں میں کبھی بھی 15 دن سے زیادہ قیام نہیں ہوا، اور نہ ہی میرا کبھی ایسا ارادہ یا نیت رہی ہے۔ سال کے کچھ مخصوص دنوں میں دریا پر عارضی پل لگ جاتا ہے، جس کی وجہ سے فاصلہ کم ہو کر 72 کلومیٹر رہ جاتا ہے۔ اس دوران میں میں پوری نماز (تمام رکعات) ادا کرتا ہوں۔
سوال یہ ہے کہ جب عارضی پل ہٹ جاتا ہے اور فاصلہ دوبارہ 145 کلومیٹر ہو جاتا ہے، تو کیا میں دوبارہ قصرِ نماز شروع کر سکتا ہوں؟ کیا اس صورتحال میں مجھے قصر کی اجازت ہے؟ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں سائل نے مذکور ملازمت کی جگہ کبھی پندره دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت نہ کی ہو، تو جن دنوں عارضی پل ہونے کی وجہ سے مسافت سفر كم ہو کر بہتر (72) کلومیٹر رہ جائے، تو ان دنوں اس راستہ سے سفر کرنے کی صورت میں سائل پر ملازمت کی جگہ بھی پوری نماز پڑھنی لازم ہوگی، لیکن عارضی پل کے ہٹ جانے کی وجہ سے مسافت سفر ایک سو پىنتالىس (145) کلومیٹر کا ہو جائے، تو ان دنوں سائل پر قصر نماز لازم ہوگی ۔
كما في الدر المختار: ولو لموضع طريقان أحدهما مدة السفر والآخر أقل قصر في الأول لا الثاني اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (قصر في الأول) أي ولو كان اختار السلوك فيه بلا غرض صحيح خلافا للشافعي كما في البدائع اهـ [كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2 ص:123 ط: سعيد)
وفي الفتاوى الهندية: وتعتبر المدة من أي طريق أخذ فيه، كذا في البحر الرائق فإذا قصد بلدة وإلى مقصده طريقان أحدهما مسيرة ثلاثة أيام ولياليها والآخر دونها فسلك الطريق الأبعد كان مسافرا عندنا، هكذا في فتاوى قاضي خان، وإن سلك الأقصر يتم، كذا في البحر الرائق، ولو كان في موضع له طريقان أحدهما في الماء وهو يقطع في ثلاثة أيام والثاني في البر وهو يقطع في يومين فإنه إذا ذهب في طريق الماء يقصر وفي البر لا يقصر ولو كان إذا سار في البر وصل في ثلاثة أيام وإذا سار في البحر وصل في يومين قصر في البر ولا يقصر في البحر والمعتبر في البحر ثلاثة أيام في ريح مستوية غير غالبة ولا ساكنة كما في الجبل يعتبر فيه أيضا ثلاثة أيام اهـ [كتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ج:1 ص:138 ط: دار الفكر، بيروت)]
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4مسافتِ سفر پر واقع ، جائے ملازمت پر ، کم از کم پندرہ دن ایک بار بھی قیام نہ کرنے کی صورت میں قصر کا حکم
یونیکوڈ نماز قصر 0